حدیث نمبر: 11402
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ مَرَّتْ سَحَابَةٌ ، فَقَالَ : " هَلْ تَدْرُونَ مَا هَذِهِ ؟ " . قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " الْعَنَانُ وَرَوَايَا الْأَرْضِ يَسُوقُهُ اللَّهُ إِلَى مَنْ لَا يَشْكُرُهُ مِنْ عِبَادِهِ وَلَا يَدْعُونَهُ ، أَتَدْرُونَ مَا هَذِهِ فَوْقَكُمْ ؟ " . قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " الرَّقِيعُ مَوْجٌ مَكْفُوفٌ وَسَقْفٌ مَحْفُوظٌ ، أَتَدْرُونَ كَمْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهَا ؟ " . قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " مَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ " . ثُمَّ قَالَ : " مَا الَّذِي فَوْقَهَا ؟ " . قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " سَمَاءٌ أُخْرَى ، أَتَدْرُونَ كَمْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهَا ؟ " . قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " مَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ " . حَتَّى عَدَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ ، ثُمَّ قَالَ : " هَلْ تَدْرُونَ مَا فَوْقَ ذَلِكَ ؟ " . قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " الْعَرْشُ " . ثُمَّ قَالَ : " هَلْ تَدْرُونَ كَمْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّمَاءِ السَّابِعَةِ ؟ " . قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " مَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ " . ثُمَّ قَالَ : [ أَتَدْرُونَ ] مَا هَذِهِ تَحْتَكُمْ ؟ " . قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " أَرْضٌ ، تَدْرُونَ مَا تَحْتَهَا ؟ " . قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " أَرْضٌ أُخْرَى ، أَتَدْرُونَ كَمْ بَيْنَهُمَا ؟ " . قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " مَسِيرَةُ سَبْعِ مِائَةِ عَامٍ " . حَتَّى عَدَّ سَبْعَ أَرَاضِينَ ، ثُمَّ قَالَ : " وَايْمُ اللَّهِ ، لَوْ دَلَّيْتُمْ [ أَحَدَكُمْ ] بِحَبْلٍ [ إِلَى الْأَرْضِ السُّفْلَى السَّابِعَةِ ] لَهَبَطَ " ، ثُمَّ قَرَأَ هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ . قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ ، غَيْرَ أَنَّهُ ذَكَرَ أَنَّ بَيْنَ كُلِّ أَرْضٍ وَالْأَرْضِ الْأُخْرَى خَمْسَ مِائَةِ عَامٍ ، وَهُنَا سَبْعُ مِائَةٍ ، فَقَالَ فِي آخِرِهِ : " لَوْ دَلَّيْتُمْ بِحَبْلٍ لَهَبَطَ عَلَى اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، اسی دوران ایک بادل وہاں سے گزرا ، آپ نے دریافت کیا : کیا تم لوگ جانتے ہو یہ کیا ہے ؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ عنان ہے اور زمین کو سیراب کرنے والا ہے ، اسے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی طرف بھیجا ہے ، اس کے بندوں میں سے جو اس کا شکر نہیں کرتے اور اس کی عبادت نہیں کرتے ، کیا تم لوگ جانتے ہؤ ، ان ( بادلوں ) کے اوپر کیا ہے ؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : رقیع ہے ، جو ایک مکفوف موج ہے اور ایک محفوظ چھت ہے ، کیا تم جانتے ہو کہ تم لوگوں کے اور اُس کے درمیان کتنا فاصلہ ہے ؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پانچ سو سال کی مسافت کا ، پھر آپ نے دریافت کیا : اس کے اوپر کیا ہے ؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دوسرا آسمان ہے ، کیا تم لوگ جانتے ہو تمہارے اور اس کے درمیان کتنا فاصلہ ہے ؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پانچ سو سال کی مسافت کا ، یہاں تک کہ آپ نے سات آسمان شمار کروائے ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ جانتے ہو ، اس کے اوپر کیا ہے ؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عرش ہے ، پھر آپ نے فرمایا : کیا تم لوگ جانتے ہو ؟ کہ اُس ( عرش ) کے اور ساتویں آسمان کے درمیان کتنا فاصلہ ہے ؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پانچ سو سال کی مسافت کا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم لوگ جانتے ہو تمہارے نیچے کیا ہے ؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : زمین ہے ، کیا تم لوگ جانتے ہو ، اس کے نیچے کیا ہے ؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک اور زمین ہے ، کیا تم جانتے ہو ، ان دونوں کے درمیان کتنا فاصلہ ہے ؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سات سو سال کی مسافت کا ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات زمینیں شمار کروائیں ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر تم میں سے کوئی ایک شخص ، ساتویں زمین تک کوئی رسی لٹکائے ، تو وہ وہیں پہنچے گی ، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی ہے : ” وہی اول ہے ، آخر ہے ، ظاہر ہے ، باطن ہے ، اور وہ ہر شے کے بارے میں علم رکھنے والا ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ بات ذکر کی ہے کہ ایک زمین سے دوسری زمین کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت کا فاصلہ ہے ، اور یہاں یہ ذکر ہے ، کہ سات سو سال کی مسافت کا فاصلہ ہے ، اور ان کی روایت کے آخر میں یہ الفاظ ہیں : ” اگر تم رسی لٹکاؤ گے ، تو وہ اللہ تعالیٰ پر ہی جائے گی “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حکم بن عبدالملک ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ بات ذکر کی ہے کہ ایک زمین سے دوسری زمین کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت کا فاصلہ ہے ، اور یہاں یہ ذکر ہے ، کہ سات سو سال کی مسافت کا فاصلہ ہے ، اور ان کی روایت کے آخر میں یہ الفاظ ہیں : ” اگر تم رسی لٹکاؤ گے ، تو وہ اللہ تعالیٰ پر ہی جائے گی “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حکم بن عبدالملک ہے اور وہ ضعیف ہے ۔