کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور ہم نے اس کی کرسی ( یعنی تخت ) پر ایک جسم ڈال دیا ، پھر اس نے رجوع کیا “
حدیث نمبر: 11307
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وُلِدَ لِسُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ وَلَدٌ فَقَالَ لِلشَّيَاطِينِ : أَيْنَ نُوَارِيهِ مِنَ الْمَوْتِ ؟ فَقَالُوا : نَذْهَبُ بِهِ إِلَى الْمَشْرِقِ ، فَقَالَ : يَصِلُ إِلَيْهِ الْمَوْتُ ، قَالُوا : فَإِلَى الْمَغْرِبِ ، قَالَ : يَصِلُ إِلَيْهِ الْمَوْتُ ، قَالُوا : إِلَى الْبِحَارِ ، قَالَ : يَصِلُ إِلَيْهِ ، قَالُوا : نَضَعُهُ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، وَنَزَلَ عَلَيْهِ مَلَكُ الْمَوْتِ فَقَالَ : يَا ابْنَ دَاوُدَ ، إِنِّي أُمِرْتُ بِقَبْضِ نَسَمَةٍ طَلَبْتُهَا بِالْمُشْرِقِ فَلَمْ أُصِبْهَا ، فَطَلَبْتُهَا فِي الْمَغْرِبِ فَلَمْ أُصِبْهَا ، فَطَلَبْتُهَا فِي الْبِحَارِ وَطَلَبْتُهَا فِي تُخُومِ الْأَرْضِ فَلَمْ أُصِبْهَا ، فَبَيْنَا أَنَا أَصْعَدُ إِذْ أَصَبْتُهَا فَقَبَضْتُهَا وَجَاءَ جَسَدُهُ حَتَّى وَقَعَ عَلَى كُرْسِيِّهِ ، فَهُوَ قَوْلُ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَانَ وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا ثُمَّ أَنَابَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ صَاحِبُ الْبَصْرِيِّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ وَابْنُهُ كَثِيرٌ ضَعِيفٌ أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سیدنا سلیمان علیہ السلام کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا ، انہوں نے شیاطین ( یعنی جنات ) سے فرمایا : ہم اسے موت سے بچانے کے لئے کہاں چھپائیں ؟ تو انہوں نے کہا: ہم اسے مشرق کی طرف لے جاتے ہیں ، سیدنا سلیمان علیہ السلام نے کہا: موت اس تک پہنچ جائے گی ، انہوں نے کہا: پھر مغرب کی طرف لے جاتے ہیں ، سیدنا سلیمان علیہ السلام نے فرمایا : موت اس تک پہنچ جائے گی انہوں نے کہا: پھر سمندر کی طرف لے جاتے ہیں ، سیدنا سلیمان علیہ السلام نے کہا: موت اس تک پہنچ جائے گی ، انہوں نے کہا: ہم اسے آسمان اور زمین کے درمیان رکھ دیتے ہیں ، ملک الموت ، سیدنا سلیمان علیہ السلام کے پاس آئے اور بولے : اے سیدنا داؤد علیہ السلام کے صاحبزادے ! مجھے ایک جان کو قبض کرنے کا حکم ملا ، میں نے اسے مشرق میں تلاش کیا ، وہ مجھے نہیں ملی ، میں نے اسے مغرب میں تلاش کیا ، وہ مجھے نہیں ملی ، میں نے اسے سمندروں میں تلاش کیا اور اسے زمین کے گوشوں میں تلاش کیا ، لیکن وہ مجھے نہیں ملی ، پھر میں واپس اوپر جا رہا تھا ، تو وہ ( جان ) مجھے مل گئی ، تو میں نے اُس کو قبض کر لیا پھر وہ اس کا جسم لے کر آئے اور اس جسم کو سیدنا سلیمان علیہ السلام کے تخت پر ڈال دیا ، تو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہ مراد ہے : ” اور ہم نے سلیمان کو آزمائش کا شکار کیا اور اس کے تخت پر جسم ڈال دیا ، پھر اُس نے رجوع کیا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن کثیر ہے ، جو بصری کا شاگرد ہے اور وہ متروک ہے ، اس کا بیٹا کثیر بھی ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن کثیر ہے ، جو بصری کا شاگرد ہے اور وہ متروک ہے ، اس کا بیٹا کثیر بھی ضعیف ہے ۔