کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ وہ ( پہاڑ ) شام کے وقت اور اشراق کے وقت تسبیح بیان کرتے تھے “
حدیث نمبر: 11305
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كُنْتُ أَمُرُّ بِهَذِهِ الْآيَةِ فَمَا أَدْرِي مَا هِيَ الْعَشِيُّ وَالْإِشْرَاقُ ، حَتَّى حَدَّثَتْنِي أُمُّ هَانِئِ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَيْهَا ، فَدَعَا بِوَضُوءٍ بِجَفْنَةٍ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَثَرِ الْعَجِينِ فِيهَا ، فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى الضُّحَى فَقَالَ : " يَا أُمَّ هَانِئٍ هِيَ صَلَاةُ الْإِشْرَاقِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں یہ آیت پڑھا کرتا تھا ، لیکن مجھے یہ سمجھ نہیں آتی تھی کہ شام اور اشراق سے مراد کیا ہے ؟ یہاں تک کہ سیدہ ام ہانی بنت ابوطالب رضی اللہ عنہا نے مجھے یہ حدیث بیان کی : ( فتح مکہ کے موقع پر ) نبی اكرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے ، آپ نے وضو کا پانی منگوایا ، جو ایک ایسے برتن میں آیا ، جس میں آٹے کا نشان موجود تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ، پھر آپ نے چاشت کی نماز ادا کی ، پھر ارشاد فرمایا : اے ام ہانی ! یہ نماز اشراق ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر ہذلی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11305
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (406/24)»