کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اے ایمان والو ! اُن لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ ، جنہوں نے موسیٰ کو اذیت پہنچائی تھی ، تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کا ( اُس عیب سے ) لاتعلق ہونا ظاہر کر دیا “
حدیث نمبر: 11284
عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " كَانَ مُوسَى رَجُلًا حَيِيًّا ، وَإِنَّهُ أَتَى - أَحْسَبُهُ قَالَ : الْمَاءَ - لِيَغْتَسِلَ ، فَوَضَعَ ثِيَابَهُ عَلَى صَخْرَةٍ وَكَانَ لَا يَكَادُ تَبْدُو عَوْرَتُهُ ، فَقَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ : إِنْ مُوسَى آدَرُ وَبِهِ آفَةٌ ، يَعْنُونَ أَنَّهُ لَا يَضَعُ ثِيَابَهُ ، فَاحْتَمَلَتِ الصَّخْرَةُ ثِيَابَهُ حَتَّى صَارَتْ بِحِذَاءِ مَجَالِسِ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، فَنَظَرُوا إِلَى مُوسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَأَحْسَنِ الرِّجَالِ " . أَوْ كَمَا قَالَ فَذَلِكَ قَوْلُهُ : ( فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكَانَ عِنْدَ اللَّهِ وَجِيهًا ) . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَهُوَ ثِقَةٌ سَيِّئُ الْحِفْظِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سیدنا موسیٰ علیہ السلام ایک شرمیلے آدمی تھے ، وہ پانی کے پاس آئے تاکہ اس میں غسل کریں ، انہوں نے اپنے کپڑے ( اتار کر ) ایک پتھر پر رکھ دیے ، وہ اپنی شرمگاہ ظاہر نہیں ہونے دیتے تھے ، بنی اسرائیل کے لوگ یہ کہتے تھے کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے خصیے پھولے ہوئے ہیں ، انہیں بیماری لاحق ہے ، ان کا مقصد یہ تھا کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام اسی وجہ سے اپنے کپڑے نہیں اتارتے ہیں ، اس پتھر نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے کپڑے اٹھائے ، اور چلتا ہوا بنی اسرائیل کے بیٹھنے کی جگہ کے مد مقابل آ گیا ، لوگوں نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ لیا کہ وہ خوبصورت ترین فرد ہیں “ ۔ یا جس طرح بھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ، تو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے : ” وہ لوگ جو کہتے تھے ، اللہ تعالیٰ نے اُس کے حوالے سے اُس ( یعنی موسیٰ ) کو بری ظاہر کر دیا اور وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقام رکھتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اور وہ ثقہ ہے ، لیکن خراب حافظے کا مالک ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اور وہ ثقہ ہے ، لیکن خراب حافظے کا مالک ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔