کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور جب تم اُن ( یعنی ازواج مطہرات ) سے کوئی چیز مانگو ، تو پردے کے پیچھے سے اُن سے مانگو “
حدیث نمبر: 11281
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كُنْتُ آكُلُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي قَعْبٍ ، فَمَرَّ عُمَرُ فَدَعَاهُ فَأَكَلَ ، فَأَصَابَتْ إِصْبَعُهُ إِصْبَعِي ، فَقَالَ : حِسَّ أَوْ أَوْهُ ، لَوْ أَطَاعَ فِيكُنَّ مَا رَأَتْكُنَّ عَيْنٌ ، فَنَزَلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُوسَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیده عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک پیالے میں کھا رہی تھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی دعوت دی ، وہ بھی کھانے لگے ، تو ان کی انگلی میری انگلی کے ساتھ مس ہو گئی ، تو انہوں نے فرمایا : ارے ! یا انہوں نے کہا: اف ! اگر میری بات تم خواتین کے بارے میں مانی جاتی ، تو کسی آنکھ نے تم خواتین کو نہیں دیکھنا تھا ، تو حجاب ( کے حکم ) سے متعلق آیات نازل ہو گئیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ موسیٰ بن ابوکثیر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ موسیٰ بن ابوکثیر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 11282
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ جِئْتُ أَدْخُلُ كَمَا كُنْتُ أَدْخُلُ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَرَاءَكَ يَا بُنَيَّ " . قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ سَلْمٌ الْعَلَوِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب حجاب کے حکم سے متعلق آیات نازل ہو گئیں ، تو میں آیا ، میں پہلے کی طرح اندر داخل ہونے لگا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : اے میرے بیٹے ! اب تم باہر ہی رہو “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ” صحیح “ میں ایک حدیث مذکور ہے ، جو اس حدیث کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلم علوی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ” صحیح “ میں ایک حدیث مذکور ہے ، جو اس حدیث کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلم علوی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔