کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرو ! جب تم لوگ شام کرو اور جب تم لوگ صبح کرو “
حدیث نمبر: 11262
عَنْ أَبِي رَزِينٍ قَالَ : خَاصَمَ نَافِعُ بْنُ الْأَزْرَقِ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ : تَجِدُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَقَرَأَ عَلَيْهِ : فَسُبْحَانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ ، الْمَغْرِبَ ، وَحِينَ تُصْبِحُونَ ، الصُّبْحَ ، وَعَشِيًّا ، الْعَصْرَ ، وَحِينَ تُظْهِرُونَ ، الظُّهْرَ ، وَمِنْ بَعْدِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ قَالَ : صَلَاةُ الْعِشَاءِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ابورزین بیان کرتے ہیں : نافع بن ازرق نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ بحث کرتے ہوئے یہ کہا: کہ کیا آپ پانچ نمازوں کا حکم اللہ کی کتاب میں پاتے ہیں ؟ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : جی ہاں ! پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس کے سامنے یہ آیات تلاوت کیں : ” تم اللہ کی پاکی بیان کرو ! جب تم شام کرتے ہو “ ۔ اس سے مراد مغرب ہے ۔ ” اور جب صبح کرتے ہو “ ۔ اس سے مراد صبح کی نماز ہے ۔ اور شام کے وقت ۔ اس سے مراد عصر کی نماز ہے ۔ اور جب تم دوپہر کرتے ہو “ ۔ اس سے مراد ظہر کی نماز ہے ” اور عشاء کی نماز کے بعد “ تو یہاں عشاء کی نماز کا ذکر آ گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔