کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور سگے رشتے دار ایک دوسرے کے بارے میں زیادہ حق رکھتے ہیں یہ حکم اللہ کی کتاب میں ہے “
حدیث نمبر: 11034
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - آخَى بَيْنَ أَصْحَابِهِ ، فَجَعَلُوا يَتَوَارَثُونَ بِذَلِكَ حَتَّى نَزَلَتْ وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ فَتَوَارَثُوا بِالنَّسَبِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا تھا وہ اس بنیاد پر ایک دوسرے کے وارث بنتے تھے یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہو گئی : ” اور سگے رشتے دار ایک دوسرے کے زیادہ لائق ہیں “ ۔ تو وہ لوگ نسب کے اعتبار سے ایک دوسرے کے وارث بننے لگے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔