کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ تم یہ فرما دو کہ وہ قدرت رکھتا ہے “
حدیث نمبر: 10999
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ - الْآيَةَ قَالَ : هُنَّ أَرْبَعٌ وَكُلُّهُنَّ عَذَابٌ وَكُلُّهُنَّ وَاقِعٌ لَا مَحَالَةَ ، فَمَضَتِ اثْنَتَانِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ سَنَةً ، فَأُلْبِسُوا شِيَعًا وَذَاقَ بَعْضُهُمْ بَأْسَ بَعْضٍ ، وَبَقِيَتِ اثْنَتَانِ وَاقِعَتَانِ لَا مَحَالَةَ : الْخَسْفُ وَالرَّجْمُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . قُلْتُ : وَالظَّاهِرُ أَنَّ مِنْ قَوْلِهِ : فَمَضَتِ اثْنَتَانِ ؛ إِلَى آخِرِهِ مِنْ قَوْلِ رَفِيعٍ ، فَإِنَّ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ لَمْ يَتَأَخَّرْ إِلَى زَمَنِ الْفِتْنَةِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . قُلْتُ : وَتَأْتِي بَقِيَّةُ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ فِي كِتَابِ الْفِتَنِ ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” تم یہ فرما دو کہ وہ اس بات کی قدرت رکھتا ہے کہ تمہارے اوپر کی طرف سے تم پر عذاب بھیج دے “ ۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : یہ چار قسم کے عذاب ہیں ، اور یہ سب عذاب ہیں یہ سب لازمی طور پر واقع ہوں گے ان میں سے دو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد واقع ہو چکے ہیں جو پچیس سالوں میں ہوئے ہیں لوگ ایک دوسرے تقسیم ہو گئے اور ایک دوسرے کو قتل کرنے لگے اور باقی دو بھی لازمی طور پر واقع ہوں گے زمین میں دھنسایا جانا اور پتھر مارے جانا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : بظاہر یہ لگتا ہے کہ روایت کے یہ الفاظ ( اس میں سے دو نشانیاں گزر چکی ہیں اس کے بعد سے لے کر آخر تک کے کلمات رفع نامی راوی کے قول ہے کیونکہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فتنے کے زمانے تک زندہ نہیں رہے تھے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی باقی احادیث کتاب الفتن میں باقی آئیں گی اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : بظاہر یہ لگتا ہے کہ روایت کے یہ الفاظ ( اس میں سے دو نشانیاں گزر چکی ہیں اس کے بعد سے لے کر آخر تک کے کلمات رفع نامی راوی کے قول ہے کیونکہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فتنے کے زمانے تک زندہ نہیں رہے تھے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی باقی احادیث کتاب الفتن میں باقی آئیں گی اگر اللہ نے چاہا ۔