کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور اللہ لوگوں سے تمہیں بچا کے رکھے گا “
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : كَانَ عَبَّاسٌ عَمُّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيمَنْ يَحْرُسُهُ ، فَلَمَّا نَزَلَتْ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْحَرَسَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ الْعَوْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عباس رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ہیں وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کیا کرتے تھے جب یہ آیت نازل ہوئی : ” اور اللہ تعالیٰ تمہیں لوگوں سے بچا کے رکھے گا “ ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حفاظت کو ترک کر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطیہ عوفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطیہ عوفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحْرَسُ ، وَكَانَ يُرْسِلُ مَعَهُ عَمُّهُ أَبُو طَالِبٍ كُلَّ يَوْمٍ رِجَالًا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ [ يَحْرُسُونَهُ ] حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ . فَأَرَادَ عَمُّهُ أَنْ يُرْسِلَ مَعَهُ مَنْ يَحْرُسُهُ فَقَالَ : " يَا عَمِّ إِنَّ اللَّهَ قَدْ عَصَمَنِي مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ النَّضْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کی جاتی تھی آپ کے چچا جناب ابوطالب آپ کے ساتھ روزانہ بنو ہاشم سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کو بھیجتے تھے جو آپ کی حفاظت کیا کرتے تھے یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی : ” اے رسول ! اس چیز کی تبلیغ کر دو جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہاری طرف نازل کی گئی ہے ، اور اگر تم ایسا نہیں کرتے تو تم نے اس کی رسالت کی تبلیغ نہیں کی اللہ تعالیٰ تمہیں لوگوں سے بچا کے رکھے گا “ ۔ اس کے بعد آپ کے چچا نے آپ کے ساتھ حفاظتی لوگوں کو بھیجنے کا ارادہ کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے چچا اللہ تعالیٰ نے مجھے جنات اور انسانوں سے محفوظ رکھ کر دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نضر بن عبدالرحمن ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نضر بن عبدالرحمن ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔