کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ بے شک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں ان کا بدلہ یہ ہے “
حدیث نمبر: 10971
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : ( إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا ) قَالَ : كَانَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَهْدٌ وَمِيثَاقٌ ، فَنَقَضُوا الْعَهْدَ وَأَفْسَدُوا فِي الْأَرْضِ ، فَخَيَّرَ اللَّهُ نَبِيَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيهِمْ ، إِنْ شَاءَ أَنْ يُقَتِّلَ وَإِنْ شَاءَ صَلَّبَ وَإِنْ شَاءَ أَنْ يُقَطِّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ مِنْ خِلَافٍ ، وَأَمَّا النَّفْيُ فَهُوَ الْهَرَبُ فِي الْأَرْضِ ، فَإِنْ جَاءَ تَائِبًا فَدَخَلَ فِي الْإِسْلَامِ قُبِلَ مِنْهُ وَلَمْ يُؤْخَذْ بِمَا سَلَفَ مِنْهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ لَمْ يَسْمَعْ ابْنَ عَبَّاسٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” بے شک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں ، اور زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں ان کا بدلہ یہ ہے “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : اہل کتاب سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان عہد اور میثاق تھا ان لوگوں نے عہد شکنی کی اور زمین میں فساد شروع کیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو ان لوگوں کے بارے میں اختیار دیا کہ اگر وہ نبی چاہیں تو انہیں قتل کر دیں اگر چاہیں تو انہیں مصلوب کر دیں اگر چاہیں تو ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمت کٹوا دیں جہاں تک نفی کا تعلق ہے ، تو اس سے مراد جلا وطن کرنا ہے اگر کوئی شخص توبہ کرتے ہوئے آ جاتا ہے ، اور اسلام میں داخل ہو جاتا ہے ، تو اس سے یہ چیز قبول کی جائے گی اور اس نے پہلے جو غلطی کی تھی اس حوالے سے اس کا مواخذہ نہیں ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے علی بن ابوطلحہ نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے علی بن ابوطلحہ نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 10972
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : مَا كَانَ فِي الْقُرْآنِ [ قَتَّلَ ] بِالتَّشْدِيدِ فَهُوَ عَذَابٌ ، وَمَا كَانَ قِيلَ بِالتَّخْفِيفِ فَهُوَ رَحْمَةٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سَهْلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَرْوَزِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : قرآن میں جہاں پر بھی لفظ قتل تشدید کے ساتھ ہو ، تو اس سے مراد عذاب دینا ہو گا اور جہاں بھی تخفیف کے ساتھ ہو اس سے مراد رحمت ہو گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سہل بن ابراہیم مروزی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سہل بن ابراہیم مروزی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔