کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اگر اس شخص کا تعلق تمہاری دشمن قوم سے ہو اور وہ شخص مومن ہو “
حدیث نمبر: 10940
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : ( فَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ ) قَالَ : كَانَ الرَّجُلُ يَأْتِي النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيُسْلِمُ ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى قَوْمِهِ وَهُمْ مُشْرِكُونَ فِي سَرِيَّةٍ أَوْ غَزَاةٍ فَيُعْتِقُ الَّذِي يُصِيبُهُ رَقَبَةً ، وَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ ، قَالَ : هُوَ الرَّجُلُ يَكُونُ مُعَاهَدًا ، وَيَكُونُ قَوْمُهُ أَهْلَ عَهْدٍ ، فَيُسَلِّمُ إِلَيْهِمُ الدِّيَةَ ، وَيُعْتِقُ الَّذِي أَصَابَهُ رَقَبَةً . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اگر اس شخص کا تعلق تمہاری دشمن قوم سے ہو اور وہ شخص مومن ہو ، تو ایسی صورت میں ایک مؤمن گردن کو آزاد کرنا ہو گا “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : پہلے کوئی شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا تھا اور اسلام قبول کر لیتا تھا ، تو پھر وہ اپنی قوم کی طرف واپس چلا جاتا تھا وہ لوگ مشرک ہوتے تھے اور مسلمان کسی جنگی مہم یا لڑائی کے دوران اس شخص کو بھی قتل کر دیتے تھے ، تو جس شخص نے اسے قتل کیا ہوتا تھا وہ غلام آزاد کرتا تھا ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اور اگر اس شخص کا تعلق اس قوم سے ہو کہ تمہارے اور ان کے درمیان کوئی معاہدہ ہو “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اس سے مراد وہ شخص ہے جو ذمی ہو اور اس کی قوم کے ساتھ عہد کیا گیا ہو تو ان لوگوں کو دیت ادا کی جائے گی اور جس شخص نے اسے قتل کیا ہے وہ غلام آزاد کرے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10940
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف