کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور عورتوں میں سے شوہروں والیاں “
حدیث نمبر: 10919
عَنْ رَزِينٍ الْجُرْجَانِيِّ قَالَ : سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ ( وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ ) . قَالَ : لَا عِلْمَ لِي بِهَا . فَسَأَلْتُ الضَّحَّاكَ بْنَ مُزَاحِمٍ ، وَذَكَرْتُ لَهُ قَوْلَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ فَقَالَ : أَشْهَدُ لَسَمِعْتُهُ يَسْأَلُ عَنْهَا ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : نَزَلَتْ يَوْمَ خَيْبَرَ ، لَمَّا فَتَحَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَصَابَ الْمُسْلِمُونَ نِسَاءً مِنْ نِسَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ لَهُنَّ أَزْوَاجٌ ، وَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْتِيَ الْمَرْأَةَ مِنْهُنَّ قَالَتْ : إِنَّ لِي زَوْجًا . فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ ذَلِكَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ : ( وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ ) الْآيَةَ . يَعْنِي : السَّبِيَّةَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ تُصَابُ لَا بَأْسَ بِذَلِكَ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ فَقَالَ : صَدَقَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرَزِينٌ الْجُرْجَانِيُّ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
رزین جرجانی بیان کرتے ہیں : میں نے سعید بن جبیر سے اس آیت کے بارے میں دریافت کیا : ” عورتوں میں سے شوہروں والیاں “ ۔ انہوں نے فرمایا : مجھے اس کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے میں نے ضحاک بن مزاحم سے اس بارے میں دریافت کیا ، اور ان کے سامنے سعید بن جبیر کا جواب ذکر کیا تو انہوں نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے انہیں اس آیت کے بارے میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کرتے ہوئے سنا ہے ، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا تھا : یہ غزوہ خیبر کے موقع پر نازل ہوئی تھی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو فتح کر لیا تو مسلمانوں کو اہل کتاب کی ایسی خواتین ملیں جن کے شوہر موجود تھے جب کوئی مسلمان ایسی کسی عورت کے ساتھ صحبت کرنے لگتا تھا ، تو وہ عورت یہ کہہ دیتی تھی میرا تو شوہر موجود ہے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” عورتوں میں سے شوہروں والیاں “ ۔ اس سے مراد یہ ہے : مشرکین سے تعلق رکھنے والی قیدی عورتوں کے ساتھ صحبت کی جا سکتی ہے اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے سعید بن جبیر کے سامنے یہ بات ذکر کی تو انہوں نے کہا: انہوں نے ( یعنی ضحاک بن مزاحم نے ) سچ کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور رزین جرجانی سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور رزین جرجانی سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10920
وَعَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ مَسْعُودٍ فِي قَوْلِهِ : ( وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ) ، قَالَ عَلِيٌّ : الْمُشْرِكَاتُ إِذَا سُبِينَ حَلَّتْ لَهُ ، وَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : الْمُشْرِكَاتُ وَالْمُسْلِمَاتُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اور عورتوں میں سے شوہروں والیاں ، البتہ ان کا معاملہ مختلف ہے جو تمہاری ملکیت میں آ جائیں “ ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : مشرک عورتوں کو جب قیدی بنا لیا جائے تو ایسی عورت آدمی کے لئے حلال ہو جائے گی ۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اس بارے میں مشرک اور مسلمان خواتین ( دونوں کا حکم برابر ہے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔