کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور تم کیسے کفر کر سکتے ہو جب کہ تم وہ لوگ ہو کہ تمہارے سامنے اللہ کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں “
حدیث نمبر: 10897
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : وَكَيْفَ تَكْفُرُونَ وَأَنْتُمْ تُتْلَى عَلَيْكُمْ آيَاتُ اللَّهِ وَفِيكُمْ رَسُولُهُ قَالَ : كَانَ الْأَوْسُ وَالْخَزْرَجُ يَتَحَدَّثُونَ إِذَا ذَكَرُوا أَمْرَ الْجَاهِلِيَّةِ ، فَغَضِبُوا حَتَّى كَانَ بَيْنَهُمْ حَرْبٌ ، فَأَخَذُوا السِّلَاحَ ، وَمَشَى بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ ، فَنَزَلَتْ : وَكَيْفَ تَكْفُرُونَ وَأَنْتُمْ تُتْلَى عَلَيْكُمْ آيَاتُ اللَّهِ وَفِيكُمْ رَسُولُهُ إِلَى قَوْلِهِ : فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اور تم کیسے کفر کر سکتے ہو جبکہ تم وہ لوگ ہو کہ تمہارے سامنے اللہ کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں ، اور تمہارے درمیان اس کا رسول موجود ہے “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : اوس اور خزرج قبیلے کے لوگ زمانہ جاہلیت کے حالات کا تذکرہ کر رہے تھے اس دوران وہ لوگ مشتعل ہو گئے یہاں تک کہ ان کے درمیان جنگ شروع ہونے لگی یہاں تک کہ انہوں نے ہتھیار پکڑ لئے اور ایک دوسرے کی طرف چل پڑے تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ” اور تم لوگ کیسے کفر کر سکتے ہو جبکہ تم پر اللہ کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے ، اور تمہارے درمیان اللہ کا رسول موجود ہے “ ۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ” تو اس نے تمہیں اس سے بچا لیا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن ابولیث ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن ابولیث ہے ، اور وہ متروک ہے ۔