کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ خوشی یا مجبوری ( ہر حال میں ) اسی کا فرمانبردار ہے ، ہر وہ جو آسمانوں میں ہے ، اور زمین میں ہے “
حدیث نمبر: 10891
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا " أَمَّا مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ فَالْمَلَائِكَةُ ، وَأَمَّا مَنْ فِي الْأَرْضِ فَمَنْ وُلِدَ عَلَى الْإِسْلَامِ ، وَأَمَّا كَرْهًا فَمَنْ أُتِيَ بِهِ مِنْ سَبَايَا الْأُمَمِ فِي السَّلَاسِلِ وَالْأَغْلَالِ ، يُقَادُونَ إِلَى الْجَنَّةِ وَهُمْ كَارِهُونَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَصِّنٍ الْعُكَّاشِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے نقل کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اُسی کی فرمانبرداری اختیار کیے ہوئے ہے ہر وہ فرد جو آسمانوں میں ہے ، اور جو زمین میں ہے ، اپنی خوشی کے ساتھ یا مجبوری کے عالم میں ( یعنی ہر حال میں ) “ ۔ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) جو آسمانوں میں ہے اس سے مراد فرشتے ہیں ، اور جو زمین میں ہے اس سے مراد وہ ہیں جو اسلام پر پیدا ہوتے ہیں جہاں تک مجبوری والے لوگوں کا تعلق ہے ، تو یہ وہ ہیں ، جو مختلف قوموں سے تعلق رکھنے والے قیدی ہوں گے انہیں بیڑیوں میں جکڑ کر لایا جائے گا اور جنت کی طرف لے جایا جائے گا حالانکہ وہ اس حوالے سے مجبور ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن محصن عکاشی ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن محصن عکاشی ہے اور وہ متروک ہے ۔