کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور جو شخص دو دن بعد جلدی چلا جائے “
حدیث نمبر: 10855
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ قَالَ : مَغْفُورًا لَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اور جو شخص دو دن بعد جلدی چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہو گا اور جو بعد میں جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہو گا “ ۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اس کی مغفرت ہو جائے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔