کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور تم لوگ ’’ حطۃ “ کہو “
حدیث نمبر: 10833
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي قَوْلِهِ : وَقُولُوا حِطَّةٌ قَالَ : قَالُوا : حِنْطَةٌ حَمْرَاءُ ، فِيهَا شَعِيرَةٌ ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ : " فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ﴿وَقُولُوا حِطَّةٌ﴾ [البقرة : 58] ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اور تم لوگ حطۃ کہو “ ۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ان لوگوں نے یہ کہا: «حنطة حمراء فيها شعيرة» ( ایسی سرخ گندم جس میں جو موجود ہیں ) تو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے : ” تو جن لوگوں نے ظلم کیا تھا انہوں نے اس بات کو تبدیل کر دیا جو ان سے کہی گئی تھی اور اس کے علاوہ کر دیا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10833
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9027)»