کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: جو شخص اپنے حق یا اہل خانہ یا مال کی خاطر قتل ہو جائے ، اس کا بیان
حدیث نمبر: 10460
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " مَنْ قُتِلَ دُونَ مَظْلَمَتِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص ظلم کی بنیاد پر قتل ہو جائے وہ شہید ہو گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 10461
وَعَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ قَالَ : قَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : ¤ " نِعْمَ الْمَنِيَّةُ أَنْ يَمُوتَ الرَّجُلُ دُونَ حَقِّهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَذَكَرَ فِيهِ قِصَّةً ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ حَفْصٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ سَعْدٍ . ¤
محمد محی الدین
ابوبکر بن حفص بیان کرتے ہیں : سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اچھی موت یہ ہے کہ آدمی اپنے حق ( کی حفاظت کرتے ہوئے ) مر جائے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے اس میں پورا واقعہ نقل کیا ہے ۔ امام طبرانی نے اسے معجم اوسط میں نقل کیا ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ ابوبکر بن حفص نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے اس میں پورا واقعہ نقل کیا ہے ۔ امام طبرانی نے اسے معجم اوسط میں نقل کیا ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ ابوبکر بن حفص نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 10462
وَعَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اپنے مال کی حفاظت کی خاطر مارا جائے وہ شہید ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10463
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَالْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل ہو جائے وہ شہید ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی کی سند عمدہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی کی سند عمدہ ہے ۔
حدیث نمبر: 10464
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ هَارُونُ بْنُ حَيَّانَ الرَّقِّيُّ ، قِيلَ : كَانَ يَضَعُ الْحَدِيثَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ہارون بن حیان رقی ہے یہ بات کہی گئی ہے یہ حدیث ایجاد کرتا تھا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ہارون بن حیان رقی ہے یہ بات کہی گئی ہے یہ حدیث ایجاد کرتا تھا ۔
حدیث نمبر: 10465
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ عَبَّادِ بْنِ أَحْمَدَ الْعَرْزَمِيِّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبید بن محمد بن محاربی ہے ، اور وہ ضعیف ہے
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عباد بن أحمد عرزمی کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبید بن محمد بن محاربی ہے ، اور وہ ضعیف ہے
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عباد بن أحمد عرزمی کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 10466
وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " الْمَقْتُولُ دُونَ مَالِهِ شَهِيدٌ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ سُحَيْمٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اپنے مال کی حفاظت کی خاطر قتل ہونے والا شخص شہید ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن سحیم ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن سحیم ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 10467
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ كُرَيْزٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ " . ¤ رَوَاهُ عَنْهُمَا الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرَوَاهُ فِي الْكَبِيرِ عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ وَحْدَهُ ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُصْعَبٍ الزُّبَيْرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبداللہ بن عامر بن کریظ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص اپنے مال کی حفاظت کی خاطر قتل ہو جائے وہ شہید ہے “ ۔ امام طبرانی نے ان دونوں حضرات کے حوالے سے
یہ روایت معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے معجم کبیر میں اسے صرف سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کیا ہے ۔ امام بزار نے اسے اسی طرح نقل کیا ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مصعب زبیری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے معجم کبیر میں اسے صرف سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کیا ہے ۔ امام بزار نے اسے اسی طرح نقل کیا ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مصعب زبیری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 10468
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " الْمَقْتُولُ دُونَ مَالِهِ شَهِيدٌ ، وَالْمَقْتُولُ دُونَ أَهْلِهِ شَهِيدٌ ، وَالْمَقْتُولُ دُونَ نَفْسِهِ شَهِيدٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جُوَيْبِرٌ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اپنے مال کی حفاظت کی خاطر قتل ہونے والا شہید ہے اپنے اہل خانہ کی حفاظت کی خاطر قتل ہونے والا شہید ہے اپنی جان کی خاطر قتل ہونے والا شہید ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی جویبر ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی جویبر ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 10469
وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " مَنْ ظَلَمَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ قَزَعَةُ بْنُ سُوَيْدٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ ، وَابْنُ عَدِيٍّ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص بالشت بھر زمین ظلم کے طور پر لے گا اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا اور جو شخص اپنے مال کی حفاظت کی خاطر قتل ہو جائے وہ شہید ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قزعہ بن سوید ہے ایک روایت کے مطابق یحییٰ بن معین نے اور ابن عدی نے اسے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قزعہ بن سوید ہے ایک روایت کے مطابق یحییٰ بن معین نے اور ابن عدی نے اسے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10470
وَعَنْ قُهَيْدِ بْنِ مُطَرِّفٍ الْغِفَارِيِّ : ¤ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَأَلَهُ سَائِلٌ : إِنْ عَدَا عَلَيَّ عَادٍ ؟ فَأَمَرَهُ أَنْ يَنْهَاهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، قَالَ : فَإِنْ أَبَى ؟ فَأَمَرَهُ بِقِتَالِهِ ، قَالَ : فَكَيْفَ بِنَا ؟ قَالَ : " إِنْ قَتَلَكَ فَأَنْتَ فِي الْجَنَّةِ ، وَإِنَّ قَتَلْتَهُ فَهُوَ فِي النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُمْ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا قہید بن مطرف غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے سوال کیا : اگر کوئی زیادتی کرنے والا میرے خلاف زیادتی کرتا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ اسے یہ حکم دیا کہ وہ اس شخص کو روکے گا اس نے عرض کی : اگر وہ شخص نہیں مانتا ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ اس کے ساتھ لڑے اس شخص نے دریافت کیا : پھر ہمارا کیا بنے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر اس نے تمہیں قتل کر دیا ، تو تم جنت میں جاؤ گے ، اور اگر تم نے اسے قتل کر دیا ، تو وہ جہنم میں جائے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔