کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کا بیان ، جو مسلمانوں پر کسی شخص کو ’’ محابات “ ( تساہل ) کے طور پر عامل بنا دے
حدیث نمبر: 9175
عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ : قَالَ لِي أَبُو بَكْرٍ رَحِمَهُ اللَّهُ حِينَ بَعَثَنِي إِلَى الشَّامِ : يَا يَزِيدُ إِنَّ لَكَ قَرَابَةً عَسَيْتَ أَنْ تُؤْثِرَهُمْ بِالْوِلَايَةِ وَذَلِكَ أَكْبَرُ مَا أَخَافُ عَلَيْكَ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ وَلِيَ مَنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ شَيْئًا فَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أَحَدًا مُحَابَاةً فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا حَتَّى يُدْخِلَهُ جَهَنَّمَ ، وَمَنْ أَعْطَى أَحَدًا حِمَى اللَّهِ فَقَدِ انْتَهَكَ فِي حِمَى اللَّهِ شَيْئًا بِغَيْرِ حَقِّهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ " أَوْ قَالَ : " تَبَرَّأَتْ مِنْهُ ذِمَّةُ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا یزید بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ جب مجھے شام بھجوانے لگے ، تو انہوں نے مجھ سے فرمایا : اے یزید ! تمہارے ساتھ رشتہ دار بھی ہوں گے ، تو ہو سکتا ہے تم حکمرانی کی وجہ سے اُن کے ساتھ ترجیحی سلوک کرو ، تمہارے بارے میں مجھے زیادہ اندیشہ اسی بات کا ہے ، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : ” جو شخص مسلمانوں کے کسی معاملے کا نگران بنے اور اُن پر کسی شخص کو ” محابات “ ( یعنی تساہل ) کے طور پر ( نا اہل شخص کو ) امیر بنا دے ، تو اُس شخص پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو گی ، اللہ تعالیٰ اس کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں کرے گا یہاں تک کہ اُسے جہنم میں داخل کر دے گا اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی چراگاہ کسی شخص کو دے ، اور وہ شخص اللہ تعالیٰ کی چراگاہ کے بارے میں ناحق طور پر کوئی کام کرے ، تو اُس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو گی ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) اُس سے اللہ تعالیٰ کا ذمہ لاتعلق ہو جائے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک ایسا شخص ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9175
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (21)»