کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: تیل کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 8872
عَنْ بِشْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ الْخَثْعَمِيِّ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ وَعِنْدَهُ ابْنُهُ فَقَالَ : هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ ، فَقُلْتُ : قَدْ تَغَدَّيْتُ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لِي : إِنَّهُ هِنْدِبَاءُ . فَقُلْتُ : يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَا [ فِي ] الْهِنْدِبَاءِ ؟ فَقَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا مِنْ وَرَقَةٍ مِنْ وَرَقِ الْهِنْدِبَاءِ إِلَّا وَعَلَيْهَا قَطْرَةٌ مِنْ مَاءِ الْجَنَّةِ " . ¤ ثُمَّ أَتَى بِدُهْنٍ فَقَالَ : ادَّهِنْ . فَقُلْتُ : قَدِ ادَّهَنْتُ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنَّهُ الْبَنَفْسَجُ . قُلْتُ : وَمَا [ فِي ] الْبَنَفْسَجِ ؟ فَقَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ فَضْلَ الْبَنَفْسَجِ عَلَى سَائِرِ الْأَدْهَانِ كَفَضْلِ وَلَدِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَلَى سَائِرِ قُرَيْشٍ ، وَإِنَّ فَضْلَ [ دُهْنَ ] الْبَنَفْسَجِ كَفَضْلِ الْإِسْلَامِ عَلَى سَائِرِ الْأَدْيَانِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَرْطَاةُ بْنُ الْأَشْعَثِ ، وَهُوَ مُتَّهَمٌ بِالْوَضْعِ . ¤
محمد محی الدین
بشر بن عبداللہ بن عمرو بن سعید خثمی بیان کرتے ہیں : میں امام محمد بن علی بن حسین ( یعنی امام باقر ) کی خدمت میں حاضر ہوا ان کے پاس ان کے صاحبزادے بھی موجود تھے انہوں نے فرمایا : آؤ اور ناشتہ کرو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول کے صاحبزادے ! میں کھانا کھا چکا ہوں ، انہوں نے فرمایا : یہ ہندباء ( کاسنی ) ہے میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول کے صاحبزادے ! ہندباء ( کاسنی ) میں کیا خصوصیت ہے ؟ انہوں نے فرمایا : میرے والد نے میرے دادا کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” ہندباء ، کے ہر ایک پتے پر جنت کے پانی کا قطرہ موجود ہوتا ہے “ ۔ پھر امام باقر تیل لے کے آئے ( یا ان کے پاس تیل لایا گیا ) تو انہوں نے فرمایا : تم تیل لگا لو میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول کے صاحبزادے ! میں نے تیل لگایا ہوا ہے ۔ انہوں نے فرمایا : یہ بنفسج ( بنفشہ ) ہے ، میں نے کہا: بنفسج ( بنفشہ ) میں کیا خصوصیت ہوتی ہے ؟ انہوں نے بتایا میرے والد نے میرے دادا کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بنفسج کو دیگر تمام تیلوں پر وہی فضیلت حاصل ہے ، جو عبدالمطلب کی اولاد کو تمام قریش پر حاصل ہے ، اور بنفسج کے تیل کو تمام تیلوں پر وہی فضیلت حاصل ہے ، جو اسلام کو دیگر تمام ادیان پر حاصل ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ارطاۃ بن اشعث ہے ، اور اس پر حدیث ایجاد کرنے کا الزام ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8872
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2892)»
حدیث نمبر: 8873
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا دَهَنَ لِحْيَتَهُ بَدَأَ بِالْعَنْفَقَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ضَعِيفٌ جِدًّا ، قَالَ أَحْمَدُ : أَحَادِيثُهُ كُلُّهَا مَوْضُوعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی داڑھی پر تیل لگاتے تھے ، تو سب سے پہلے ، نچلے ہونٹ کے نیچے والے حصے سے آغاز کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حکم بن عبداللہ بن سعید ایلی ہے جو انتہائی ضعیف ہے امام أحمد کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ احادیث تمام موضوع ( ایجاد کی ہوئی ) ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8873
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 8874
وَعَنْ لَمِيسَ أَنَّهَا قَالَتْ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ قُلْتُ لَهَا : الْمَرْأَةُ تَصْنَعُ الدُّهْنَ تَتَحَبَّبُ إِلَى زَوْجِهَا ؟ فَقَالَتْ : أَمِيطِي عَنْكِ تِلْكَ الَّتِي لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهَا . ¤ [ قَالَتْ ] :وَقَالَتِ امْرَأَةٌ لِعَائِشَةَ : يَا أُمَّهُ فَقَالَتْ عَائِشَةُ : إِنِّي لَسْتُ بِأُمِّكُنَّ وَلَكِنِّي أُخْتُكُنَّ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَلَمِيسُ لَمْ أَعْرِفْهَا . ¤
محمد محی الدین
لمیس نامی خاتون بیان کرتی ہیں : میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا میں نے ان سے کہا: عورت تیل رکھتی ہے تاکہ وہ اپنے شوہر کے لیے محبت کو ظاہر کرے ، انہوں نے فرمایا : تم اپنے آپ سے اس چیز کو دور کر دو ، جس کی طرف اللہ تعالیٰ نظر رحمت نہیں کرے گا ۔ ایک عورت نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اے امی جان ! تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : میں تم خواتین کی ماں نہیں ہوں میں ، تو تمہاری بہن ہوں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے جو انتہائی ضعیف ہے ویسے اس کی ، توثیق کی گئی ہے ، اور لمیس نامی خاتون سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8874
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (146/6)»