کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: نقلی بال لگانے والی ، رنگ صاف کرنے کے لئے دوا لگانے والی اور جسم گودنے والی عورت کا بیان
حدیث نمبر: 8866
عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ أَنْ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ تَزَوَّجَ امْرَأَةً سَقَطَ شَعْرُهَا ، فَسُئِلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ عَنِ الْوِصَالِ ] " فَلَعَنَ الْوَاصِلَةَ وَالْمَوْصُولَةَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ دَلْهَمٍ وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے ایک ایسی خاتون کے ساتھ شادی کی جس کے بال گر چکے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقلی بال لگوانے کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو آپ نے نقلی بال لگانے والی اور لگوانے والی پر لعنت کی ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فضل بن دلہم ہے ، اور وہ ثقہ ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فضل بن دلہم ہے ، اور وہ ثقہ ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 8867
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَلْعَنُ الْقَاشِرَةَ وَالْمَقْشُورَةَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ مِنَ النِّسَاءِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رنگ صاف کرنے کے لیے ، چہرے پر دوا لگانے والی ، اور لگوانے والی عورت پر لعنت کرتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسی خواتین ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسی خواتین ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 8868
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ بِقُصَّةٍ ، فَقَالَ : " إِنَّ نِسَاءَ بَنِي إِسْرَائِيلَ كُنَّ يَجْعَلْنَ هَذَا فِي رُؤُوسِهِّنَ فَلُعِنَّ ، وَحُرِّمَ عَلَيْهِنَّ الْمَسَاجِدُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مصنوعی بالوں کا ایک گچھہ نکالا اور فرمایا : بنی اسرائیل کی عورتیں اپنے سروں پر یہ لگایا کرتی تھیں ، تو ان پر لعنت کی گئی اور ان پر مسجد میں آنا حرام قرار دیدیا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 8869
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَعَنَ الْوَاصِلَةَ وَالْمَوْصُولَةَ ، وَالْوَاشِمَةَ وَالْمَوْشُومَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نقلی بال لگانے والی اور لگوانے والی جسم گودنے والی اور گدوانے والی عورت پر لعنت کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 8870
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَعَنَ الْوَاصِلَةَ وَالْمَوْصُولَةَ . ¤ قُلْتُ : لِابْنِ عَبَّاسٍ عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ : " لُعِنَتِ الْوَاصِلَةُ وَالْمُسْتَوْصِلَةُ " . مِنْ غَيْرِ ذِكْرٍ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نقلی بال لگانے والی اور لگوانے والی ( عورتوں ) پر لعنت کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابوداؤد نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے
یہ روایت نقل کی ہے : ” نقلی بال لگانے والی اور لگوانے والی عورت پر لعنت کی گئی ہے “ ۔ اس روایت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت نقل کی ہے : ” نقلی بال لگانے والی اور لگوانے والی عورت پر لعنت کی گئی ہے “ ۔ اس روایت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔