کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: کوئی شخص ایک جوتا پہن کر نہ چلے اور ایک موزہ پہن کر نہ چلے
حدیث نمبر: 8630
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى أَنْ يَمْشِيَ الرَّجُلُ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ أَوْ خُفٍّ وَاحِدَةٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ آدمی ایک جوتا پہن کر یا ایک موزہ پہن کر چلے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8630
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12359)»
حدیث نمبر: 8631
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى أَنْ يَمْشِيَ الرَّجُلُ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ أَوْ خُفٍّ وَاحِدَةٍ ، وَيَبِيتَ فِي دَارٍ وَاحِدَةٍ أَوْ يَنْتَقِصَ فِي بِرَازٍ مِنَ الْأَرْضِ ، إِلَّا أَنْ يَنْحَنِيَ أَوْ يَلْقَى عَدُوًّا إِلَّا أَنْ يُنَحِّيَ عَنْ نَفْسِهِ . ¤ قُلْتُ : هَكَذَا وَجَدْتُهُ فِي النُّسْخَةِ الْتِي كَتَبْتُهُ مِنْهَا وَلَيْسَتْ بِأَصْلٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ وِجَادَةً عَنْ كِتَابِ أَبِيهِ وَقَالَ : ضَرَبَ عَلَيْهِ أَبِي وَلَمْ يُحَدِّثْنَا بِهِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَكَذَلِكَ رِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ إِلَّا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ نَقَلَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ ضَرَبَ عَلَى الْحَدِيثِ مِنْ أَجْلِ الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ قُلْتُ : وَهُوَ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ آدمی ایک جوتا پہن کر یا ایک موزہ پہن کر چلے یا گھر میں اکیلا رات گزارے یا قضائے حاجت کے بغیر کھانسے بغیر کھڑا ہو جائے یا دشمن کا اکیلے مقابلہ کرے ، البتہ اگر مجبوری کا عالم ہو تو اکیلا اپنا دفاع کر سکتا ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں میں نے اس نسخے میں اس روایت کو اسی طرح پایا ہے جس نسخے سے میں نے اسے نقل کیا ہے ، اور یہ ” اصل “ نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ عبداللہ بن أحمد نے اسے ” وجادہ “ کے طور پر اپنے والد کی تحریر سے نقل کیا ہے وہ یہ کہتے ہیں : میرے والد نے اسے پرے کر دیا تھا انہوں نے ہمیں یہ حدیث بیان نہیں کی تھی امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں اسی طرح امام طبرانی کے رجال کا معاملہ ہے ، البتہ عبداللہ نے اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے ۔ کہ انہوں نے حسن بن ذکوان نامی راوی کی وجہ سے اس راوی کو پرے کر دیا تھا میں یہ کہتا ہوں یہ صاحب ” صحیح “ کے رجال میں سے ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8631
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 8632
وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ أَحَدِكُمْ فَلَا يَمْشِ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب کسی شخص کا تسمہ ٹوٹ جائے ، تو وہ ایک جوتا پہن کر نہ چلے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خارجہ بن مصعب ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8632
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7137)»