حدیث نمبر: 8556
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : أَيَصْبِغُ رَبُّكَ ؟ فَقَالَ : " نَعَمْ صِبَاغًا لَا يَنْفَضُّ أَحْمَرَ وَأَصْفَرَ وَأَبْيَضَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : کیا آپ کا پروردگار بھی رنگ ( عطا ) کرتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! ایسا رنگ جو سرخ یا زرد یا سفید نہیں ہوتا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
حدیث نمبر: 8557
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : رُبَّمَا صَبَغَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رِدَاءَهُ وَإِزَارَهُ بِزَعْفَرَانٍ أَوْ وَرْسٍ ثُمَّ يَخْرُجُ فِيهِمَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ رِوَايَةٍ رَكِيحٍ بْنِ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ ، وَقَدْ ذَكَرَ ابْنُ حِبَّانَ رَكِيحًا فِي الثِّقَاتِ ، وَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ فِي تَرْجَمَتِهِ فَلَا أَدْرِي حَكَمَ بِصِحَّتِهِ أَمْ لَا ، وَلَمْ يَتَعَرَّضْ لِبَقِيَّةِ رِجَالِهِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : بعض اوقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر اور تہبند پر زعفران یا درس کا رنگ کروا لیتے تھے اور پھر ان کو پہن کر نکلتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے رکیح بن ابوعبیدہ کی اپنے والد سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ ابن حبان نے رکیح کا ذکر کتاب الثقات میں کیا ہے ، اور یہ حدیث ان کے حالات میں ذکر کی ہے مجھے پتہ نہیں انہوں نے اس کے صحیح ہونے کا حکم لگایا ہے یا نہیں انہوں نے اس کے بقیہ رجال سے تعرض نہیں کیا اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے رکیح بن ابوعبیدہ کی اپنے والد سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ ابن حبان نے رکیح کا ذکر کتاب الثقات میں کیا ہے ، اور یہ حدیث ان کے حالات میں ذکر کی ہے مجھے پتہ نہیں انہوں نے اس کے صحیح ہونے کا حکم لگایا ہے یا نہیں انہوں نے اس کے بقیہ رجال سے تعرض نہیں کیا اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 8558
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَخَّصَ فِي الثَّوْبِ الْمَصْبُوغِ مَا لَمْ يَكُنْ لَهُ نَفْضٌ وَلَا رَدْعٌ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رنگے ہوئے کپڑے کی رخصت دی ہے ، جب تک اس میں خوشبو اور ( نسوانی ) رنگ نہ ہو ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ، اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ، اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
حدیث نمبر: 8559
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : رَاحَ عُثْمَانُ إِلَى مَكَّةَ حَاجًّا ، وَدَخَلَتْ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ امْرَأَتُهُ فَبَاتَ مَعَهَا حَتَّى أَصْبَحَ ، ثُمَّ غَدَا عَلَيْهِ رَدْعُ الطَّيِّبِ ، وَمِلْحَفَةٌ مُعَصْفَرَةٌ مُفَدَّمَةٌ ، فَأَدْرَكَ النَّاسَ بِمَلَلٍ قَبْلَ أَنْ يَرُوحُوا فَلَمَّا رَآهُ عُثْمَانُ انْتَهَرَهُ وَأَفَّفَ وَقَالَ : أَتَلْبَسُ الْمُعَصْفَرَ وَقَدْ نَهَى عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقَالَ لَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَنْهَهُ وَلَا إِيَّاكَ إِنَّمَا نَهَانِي . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ وَقَدْ ضُعِّفَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ حج کرنے کے لئے مکہ کی طرف روانہ ہوئے محمد بن جعفر بن ابوطالب کی اہلیہ أن ( یعنی محمد بن جعفر ) کے پاس آئیں اور انہوں نے اپنی بیوی کے ساتھ رات گزاری یہاں تک کہ جب صبح ہوئی ، تو ان کے جسم سے خوشبو کے بھپکے اُٹھ رہے تھے اور انہوں نے معصفر کپڑا اوڑھا ہوا تھا ، جو مفدم تھا ، انہوں نے لوگوں کو ” ملل ، میں پایا ، وہ ابھی روانہ نہیں ہوئے تھے ، جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا تو انہیں ڈانٹا اور انہیں ” ف“ کہا: اور فرمایا : کیا تم نے معصفر لباس پہنا ہوا ہے ؟ جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے ، تو سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے اُن سے کہا: اللہ کے رسول نے اسے یا آپ کو اس سے منع نہیں کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس سے منع کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن عبداللہ بن موہب ہے ، جسے یحیی بن معین نے ، ایک روایت کے مطابق ثقہ قرار دیا ہے ، ویسے اسے ضعیف کہا: گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن عبداللہ بن موہب ہے ، جسے یحیی بن معین نے ، ایک روایت کے مطابق ثقہ قرار دیا ہے ، ویسے اسے ضعیف کہا: گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 8560
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ : كَانَ أَحَبُّ الصِّبَاغِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الصُّفْرَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ الْقَاسِمِ ، وَهُوَ كَذَّابٌ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن ابواوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ رنگ زرد تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبید بن قاسم ہے ، اور وہ کذاب اور متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبید بن قاسم ہے ، اور وہ کذاب اور متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 8561
وَعَنْ قَيْسٍ التَّمِيمِيِّ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَيْهِ ثَوْبٌ أَصْفَرُ ، وَرَأَيْتُهُ يُسَلِّمُ عَلَى نِسَاءٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا قیس تمیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کے جسم پر زرد کپڑا تھا ، اور میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے خواتین کو سلام کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 8562
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُحِبُّ الْخُضْرَةَ أَوْ قَالَ : كَانَ أَحَبُّ الْأَلْوَانِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيُّ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سبز رنگ کو پسند کرتے تھے راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ رنگ یہ تھا ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 8563
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَتْ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِلْحَفَةٌ مَصْبُوغَةٌ بِالْوَرْسِ وَالزَّعْفَرَانِ يَدُورُ بِهَا عَلَى نِسَائِهِ فَإِنْ كَانَتْ لَيْلَةَ هَذِهِ رَشَّهَا بِالْمَاءِ وَإِنْ كَانَتْ لَيْلَةَ هَذِهِ رَشَّتْهَا بِالْمَاءِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک لحاف تھا جو ورس اور زعفران سے رنگا ہوا تھا آپ وہ پہن کر اپنی ازدواج کے پاس تشریف لے جاتے تھے اگر آپ کی کسی مخصوص زوجہ محترمہ کے پاس ٹھہرنے کی باری ہوتی ، تو آپ اس کپڑے پر پانی چھڑک دیتے تھے اور اگر کسی دوسری زوجہ محترمہ کے پاس رہنے کی باری ہوتی ، تو وہ اس پر پانی چھڑک دیتی تھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مؤمل بن اسماعیل ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مؤمل بن اسماعیل ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 8564
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ : رَأَيْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَوْبَيْنِ أَصْفَرَيْنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دو زرد کپڑے پہنے ہوئے دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 8565
وَرَوَى لَهُ أَبُو يَعْلَى : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ مَصْبُوغَانِ بِالزَّعْفَرَانِ : رِدَاءٌ وَعِمَامَةٌ . وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُصْعَبٍ الزُّهْرِيُّ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ . ¤
محمد محی الدین
امام ابویعلیٰ نے ، ان صحابی ( یعنی سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ ) کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے ۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ کے جسم پر دو کپڑے تھے ، جو زعفران سے رنگے ہوئے تھے ، ایک چادر تھی اور عمامہ تھا ۔ ایک روایت کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مصعب زہری ہے ، جسے یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 8566
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِلْحَفَةٌ مَصْبُوغَةٌ بِوَرْسٍ ، فَكَانَ يَلْبَسُهَا فِي بَيْتِهِ ، وَيَدُورُ فِيهِ عَلَى نِسَائِهِ ، وَيُصَلِّي فِيهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ مِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک لحاف ( یا چادر ) تھی ، جو ورس سے رنگی ہوئی تھی آپ گھر میں اسے پہن لیا کرتے تھے اور اسے پہن کے اپنی ازواج کے پاس تشریف لے جاتے تھے آپ اس لباس میں نماز بھی پڑھ لیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ اور وہ ضعیف نے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ اور وہ ضعیف نے ۔
حدیث نمبر: 8567
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمٍ قَالَ : رَأَيْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ إِزَارًا أَصْفَرَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عمران بن مسلم بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو زرد تہبند استعمال کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 8568
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِيَّاكُمْ وَالْحُمْرَةَ فَإِنَّهَا أَحَبُّ الزِّينَةِ إِلَى الشَّيْطَانِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا يَعْقُوبُ بْنُ خَالِدِ بْنِ نَجِيحٍ الْبَكْرِيُّ الْعَبْدِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَفِي الْآخَرِ : بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ يَرْوِي عَنْ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ سرخ رنگ استعمال کرنے سے بچو ! کیونکہ یہ شیطان کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ زینت ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔ جن میں سے ایک میں ایک راوی یعقوب بن خالد بن نجیح بکری عبدی ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ، دوسری روایت کی سند میں بکر بن محمد ہے ، جس نے سعید کے حوالے سے شعبہ سے روایت نقل کی ہے ۔ ان دونوں کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔ جن میں سے ایک میں ایک راوی یعقوب بن خالد بن نجیح بکری عبدی ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ، دوسری روایت کی سند میں بکر بن محمد ہے ، جس نے سعید کے حوالے سے شعبہ سے روایت نقل کی ہے ۔ ان دونوں کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 8569
وَعَنْ رَافِعِ بْنِ يَزِيدَ الثَّقَفِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ يُحِبُّ الْحُمْرَةَ فَإِيَّاكُمْ وَالْحُمْرَةَ وَكُلَّ ثَوْبِ ذِي شُهْرَةٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا رافع بن یزید ثقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک شیطان سرخ رنگ کو پسند کرتا ہے ، تو تم سرخ رنگ سے بچو ! اور ہر اس لباس سے بچو ! جو شہرت والا ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر ہذلی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر ہذلی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 8570
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : مَا رَأَيْتُ أَحْسَنَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ سُوِيدٍ ، ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ : يُتَّقَى مِنْ حَدِيثِهِ مَا كَانَ مِنْ رِوَايَةِ ابْنِهِ مُحَمَّدٍ عَنْهُ ، قُلْتُ : وَهَذَا مِنْ غَيْرِ رِوَايَةِ ابْنِهِ ، وَلَكِنْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا ، جو سرخ حلے میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوبصورت لگتا ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن سوید ہے ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب الثقات میں کیا ہے ، اور یہ بات بیان کی ہے اس کی حدیث سے بچا جائے گا ، جبکہ وہ روایت اس کے بیٹے محمد نے اس سے نقل کی ہو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ اس روایت کے علاوہ ہے جو اس کے بیٹے نے نقل کی ہے ۔ ( یعنی
یہ روایت اس کے بیٹے سے منقول نہیں ہے ) تاہم جمہور نے اس راوی کو ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن سوید ہے ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب الثقات میں کیا ہے ، اور یہ بات بیان کی ہے اس کی حدیث سے بچا جائے گا ، جبکہ وہ روایت اس کے بیٹے محمد نے اس سے نقل کی ہو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ اس روایت کے علاوہ ہے جو اس کے بیٹے نے نقل کی ہے ۔ ( یعنی
یہ روایت اس کے بیٹے سے منقول نہیں ہے ) تاہم جمہور نے اس راوی کو ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 8571
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : رَأَيْتُ جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - عَلَيْهِ عِمَامَةٌ حَمْرَاءُ مُرْخِيَهَا بَيْنَ كَتِفَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَقَدْ ضُعِّفَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے سیدنا جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا انہوں نے سرخ عمامہ ( باندھا ہوا ) تھا ، اور انہوں نے اسے دونوں کندھوں کے درمیان لٹکایا ہوا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اسے ضعیف قرار دیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اسے ضعیف قرار دیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔