حدیث نمبر: 8381
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الشَّجَرَةِ الْمُبَارَكَةِ ، زَيْتِ الزَّيْتُونِ ، فَتَدَاوَوْا بِهِ ، فَإِنَّهُ مَصَحَّةٌ مِنَ الْبَاسُورِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَلَكِنْ ذَكَرَ الذَّهَبِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ فِي تَرْجَمَةِ عُثْمَانَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، وَنَقَلَ عَنْ أَبِي حَاتِمٍ أَنَّهُ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم پر اس برکت والے درخت کو استعمال کرنا لازم ہے ، یعنی زیتون کا درخت ، تم اسے دواء کے طور پر استعمال کرو ! کیونکہ یہ بواسیر سے نجات کا ذریعہ ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی روایت کردہ حدیث حسن ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ امام ذہبی نے
یہ روایت عثمان کے حالات میں ، ابوصالح سے منقول روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ اور انہوں نے ابوحاتم کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ یہ راوی کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی روایت کردہ حدیث حسن ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ امام ذہبی نے
یہ روایت عثمان کے حالات میں ، ابوصالح سے منقول روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ اور انہوں نے ابوحاتم کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ یہ راوی کذاب ہے ۔
حدیث نمبر: 8382
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " اسْتَنْجُوا بِالْمَاءِ الْبَارِدِ ، فَإِنَّهُ مَصَحَّةٌ لِلْبَوَاسِيرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَمَّارُ بْنُ هَارُونَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” ٹھنڈے پانی کے ذریعے استنجاء کرو ! کیونکہ یہ بواسیر سے نجات کا ذریعہ ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمار بن ہارون ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمار بن ہارون ہے ، اور وہ متروک ہے ۔