کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کا بیان ، جس کے سامنے کوئی ایسا کھانا پیش کیا جائے ، جس کی اصل اک پتہ نہ ہو
حدیث نمبر: 8043
عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ عَلَى أَخِيهِ الْمُسْلِمِ فَأَطْعَمَهُ طَعَامًا فَلْيَأْكُلْ مِنْ طَعَامِهِ ، وَلَا يَسْأَلْ عَنْهُ ، وَإِنْ سَقَاهُ شَرَابًا فَلْيَشْرَبْ مِنْ شَرَابِهِ ، وَلَا يَسْأَلْ عَنْهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ ، وَالْجُمْهُورُ ضَعَّفَهُ وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی ایک شخص مسلمان بھائی کے پاس جائے ، اور وہ اسے کچھ کھانے کے لئے دے ، تو اس کو اس کے کھانے میں سے کھا لینا چاہیے اور اس کے بارے میں دریافت نہیں کرنا چاہیے اور اگر وہ اسے کوئی مشروب پلائے ، تو اس کے مشروب میں سے پی لینا چاہیے اور اس کے بارے میں دریافت نہیں کرنا چاہیے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن خالد زنگی ہے جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔ امام أحمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 8043
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6358) اخرجه احمد فى المسند (399/2)»