کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس چیز کا بیان ، جو دشمن مسلمانوں سے لے لیتا ہے
حدیث نمبر: 6873
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : أَصَابَ الْعَدُوُّ نَاقَةً لِرَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ ، ثُمَّ اشْتَرَاهَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَعَرَفَهَا صَاحِبُهَا فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَأْخُذَهَا بِالثَّمَنِ الَّذِي اشْتَرَاهَا مِنَ الْعَدُوِّ وَإِلَّا خَلَّى بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : دشمن نے بنوسلیم سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی اونٹنی پکڑ لی ، پھر اس اونٹنی کو ایک مسلمان نے خرید لیا ، اس کے مالک نے اس اونٹنی کو پہچان لیا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو یہ ہدایت کی وہ اس کی قیمت کے بدلے میں اسے حاصل کرے ، جس قیمت کے عوض میں ، دوسرے شخص نے دشمن سے خریدا تھا ، ورنہ وہ اونٹنی اس شخص کے پاس ہی رہنے دے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6873
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1833)»
حدیث نمبر: 6874
وَعَنْ أَبِي لُبَابَةَ الْأَسْلَمِيِّ : أَنَّ نَاقَةً مِنْ تِلَادِهِ سُرِقَتْ ، فَوَجَدْتُهَا عِنْدَ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقُلْتُ لَهُ : نَاقَتِي ، وَأَنَا أُقِيمُ عَلَيْهَا الْبَيِّنَةَ . فَأَقَمْتُ عَلَيْهَا الْبَيِّنَةَ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَقَامَ الْأَنْصَارِيُّ أَنَّهُ اشْتَرَاهَا بِثَمَانِيَةَ عَشَرَ مِنْ مُشْرِكٍ مِنْ أَهْلِ الطَّائِفِ . فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، ثُمَّ قَالَ : " مَا شِئْتَ يَا أَبَا لُبَابَةَ إِنْ شِئْتَ دَفَعْتَ إِلَيْهِ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ وَأَخَذْتَ الرَّاحِلَةَ ، وَإِنْ شِئْتَ خَلَّيْتَ عَنْهَا " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا عِنْدِي مَا أُعْطِيهِ الْيَوْمَ ، وَلَكِنْ سَيَأْتِينِي تَمْرٌ إِلَى الصِّرَامِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ذَاكَ إِلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ الْقَاسِمِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤ وَيَأْتِي حَدِيثُ زَبِيبٍ فِي هَذَا فِي الْقَضَاءِ بِالشَّاهِدِ وَالْيَمِينِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابولبابہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ان کے جانوروں میں سے ایک اونٹنی چوری ہو گئی ، میں نے اسے انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے پاس پایا ، میں نے اسے کہا: یہ میری اونٹنی ہے اور میں نے اس پر ثبوت بھی پیش کر دیا ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اس اونٹنی پر ثبوت پیش کیا ، تو انصاری نے یہ ثبوت پیش کیا کہ اس نے طائف سے تعلق رکھنے والے ایک مشرک سے اس اونٹنی کو اٹھارہ ( درہم یا دینار ) کے عوض میں خریدا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اے ابولبابہ ! تم کیا چاہتے ہو ؟ اگر تم چاہو ، تو اٹھارہ ( درہم یا دینار ) اسے دے دو اور اونٹنی لے لو ، اور اگر چاہو ، تو اونٹنی اس کے پاس رہنے دو ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے پاس اتنی رقم نہیں ہے ، کہ میں اسے آج ادائیگی کروں ، البتہ جب کھجوریں اتارنے کا موسم آئے گا ، اس وقت میرے پاس کھجوریں آئیں گی ( تو میں اس وقت اسے ادائیگی کر دوں گا ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایسے کر لو !
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالغفار بن قاسم ہے اور وہ متروک ہے ۔ سیدنا زبیب میں نور سے منقول حدیث جو اس بارے میں ہے وہ ایک گواہ اور قسم کی بنیاد پر فیصلہ دینے سے متعلق باب میں آگے آئے گی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6874
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 6875
وَعَنْ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أَدْرَكَ مَالَهُ مِنَ الْفَيْءِ قَبْلَ أَنْ يُقْسَمَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ . وَمَنْ أَدْرَكَهُ بَعْدَ أَنْ يُقْسَمَ فَلَيْسَ لَهُ شَيْءٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَاسِينُ الزَّيَّاتُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص مال فئے ( یعنی غنیمت ) میں سے اپنے مال کو تقسیم سے پہلے پا لے ، تو وہ اس کا زیادہ حق دار ہو گا اور جو شخص تقسیم کے بعد اسے پائے گا ، تو اسے کچھ نہیں ملے گا ” ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یسین زیات ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6875
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف