حدیث نمبر: 6855
عَنْ أَبِي جَمِيلَةَ أَنَّهُ وَجَدَ مَنْبُوذًا عَلَى عَهْدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَأَتَاهُ بِهِ ، فَاتَّهَمَهُ ، فَأُثْنِيَ عَلَيْهِ خَيْرًا فَقَالَ عُمَرُ : هُوَ حُرٌّ ، وَوَلَاؤُهُ لَكَ ، وَنَفَقَتُهُ عَلَيْنَا مِنْ بَيْتِ الْمَالِ . . ¤
محمد محی الدین
ابوجمیلہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں انہیں ایک گمشدہ بچہ ملا ، وہ اسے لے کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان پر الزام عائد کیا جب ان کی تحقیق کی گئی ) تو ان کی تعریف بیان کی گئی ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ بچہ آزاد شمار ہو گا اس کی ولاء تمہیں ملے گی اور اس کے خرچ کی ادائیگی ہم پر ، بیت المال میں سے لازم ہو گی ۔
حدیث نمبر: 6856
وَفِي رِوَايَةٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ : أَنَّ رَجُلًا أَخْبَرَهُ أَنَّهُ الْتَقَطَ وَلَدَ زِنًا ¤
محمد محی الدین
زہری کے حوالے سے منقول ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ایک شخص نے انہیں بتایا کہ اس نے زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بچہ اٹھایا ہے ۔
حدیث نمبر: 6857
وَفِي رِوَايَةٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ : أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى أَهْلِهِ ، وَقَدِ الْتَقَطَ مَنْبُوذًا فَذَهَبَ إِلَى عُمَرَ فَذَكَرَهُ لَهُ ، فَقَالَ عُمَرُ : عَسَى الْغُوَيْرُ أَبْؤُسًا ، فَقَالَ الرَّجُلُ : مَا الْتُقِطَ إِلَّا وَأَنَا غَائِبٌ . فَسَأَلَ عَنْهُ عُمَرُ فَأُثْنِيَ عَلَيْهِ . فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : فَوَلَاؤُهُ لَكَ ، وَنَفَقَتُهُ عَلَيْنَا مِنْ بَيْتِ الْمَالِ . ¤ وَرِجَالُ هَذِهِ الطُّرُقِ كُلِّهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا هَذِهِ الرَّاوِيَةَ الْأَخِيرَةَ ، فَإِنَّهَا مُرْسَلَةٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں زہری کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : ایک شخص اپنے گھر والوں کے پاس آیا اس نے ایک گمشدہ ملا ہوا بچہ اٹھایا تھا ، وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان کے سامنے یہ بات ذکر کی ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : دال میں کچھ کالا لگتا ہے اس شخص نے کہا: جب اسے اٹھایا گیا تو اس وقت میں موجود نہیں تھا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس شخص کے بارے میں تحقیق کی ، تو اس کی تعریف بیان کی گئی ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس شخص سے فرمایا : اس کی ولاء تمہیں ملے گی اور اس کا خرچ بیت المال میں سے خرچ کرنا ، ہم پر لازم ہو گا ۔ اس روایت کے تمام طرق کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ آخری روایت کا معاملہ مختلف ہے کیونکہ وہ روایت ” مرسل “ ہے ۔