کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: وکالت کا بیان اور وکیل کا تصرف کرنا
حدیث نمبر: 6812
عَنْ عَمْرِو بْنِ وَاثِلَةَ أَوْ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْطَى حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ دِينَارًا وَأَمَرَهُ أَنْ يَشْتَرِيَ بِهِ أُضْحِيَةً ، فَاشْتَرَى فَجَاءَهُ مَنْ أَرْبَحَهُ فَبَاعَ ، ثُمَّ اشْتَرَى ، ثُمَّ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِدِينَارٍ وَشَاةٍ، فَقَالَ : " مَا هَذَا ؟ " فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ اشْتَرَيْتُ وَبِعْتُ وَرَبِحْتُ . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي تِجَارَتِكَ " . وَأَخَذَ الدِّينَارَ فَتَصَدَّقَ بِهِ ، وَأَخَذَ الشَّاةَ فَضَحَّى بِهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُمَيْرُ بْنُ عِمْرَانَ قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : حَدَّثَ بِالْبَوَاطِيلِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن واثلہ ، یا سیدنا عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو ایک دینار دیا اور انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ اس کے ذریعے قربانی کا جانور خرید لیں ، انہوں نے وہ جانور خرید لیا ، پھر ان کے پاس ایک شخص آیا ، جو انہیں اس جانور پر منافع دے رہا تھا ، تھوڑی دیر بعد وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دینار اور ایک بکری لے کے آ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ کیا معاملہ ہے ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پہلے میں نے جانور خریدا ، پھر اسے میں نے فروخت کیا اور مجھے منافع ہو گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی تمہاری تجارت میں ، تمہارے لئے برکت رکھے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دینار لے کر اسے صدقہ کر دیا اور بکری لے کر اس کی قربانی کر لی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمیر بن عمران ہے ابن عدی کہتے ہیں : یہ باطل روایات نقل کرتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6812
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً