کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: کھیتی باڑی کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 6592
وَعَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِأَرْضٍ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فِيهَا زَرْعٌ فَقَالَ : " يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، لَا تَأْكُلِ الرِّبَا ، وَلَا تُطْعِمْهُ ، وَلَا تَزْرَعْ إِلَّا فِي أَرْضٍ تَرِثُهَا ، أَوْ تُوَرِّثُهَا ، أَوْ تَمْنَحُهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَطَاءٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ دُحَيْمٌ . ¤ تَقَدَّمَ فِي أَوَائِلِ الْبَيْعِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی زمین کے پاس سے ہوا ، جس میں کھیت موجود تھا ، آپ نے فرمایا : ” اے ابوعبدالرحمن ! تم سود نہ کھانا اور اسے نہ کھلانا اور تم صرف اس زمین میں صرف کھیتی باڑی کرنا جس کے تم وارث بنے ہو ، یا جسے تم نے وراثت میں منتقل کرنا ہو ، یا جسے تم نے عطیہ کے طور پر دیا ہو ( یا جو تمہیں عطیہ کے طور پر دی گئی ہو ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عطاء ہے اور وہ ضعیف ہے ، دحیم نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6592
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف