حدیث نمبر: 6426
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أُصِيبَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَطَلَبُوا إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُجِنُّوهُ فَقَالَ : " لَا ، وَلَا كَرَامَةَ لَكُمْ " . قَالُوا : فَإِنَّا نَجْعَلُ لَكَ عَلَى ذَلِكَ جَعْلًا . قَالَ : " ذَاكَ أَخْبَثُ وَأَخْبَثُ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ سَيِّئُ الْحِفْظِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : غزوہ خندق کے موقع پر مشرکین کا ایک فرد مارا گیا ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ لوگ اس کو دفن کر دیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! تمہارے لئے کوئی عزت افزائی نہیں ہے ، ان لوگوں نے کہا: ہم آپ کو اس کا معاوضہ دینے کے لئے تیار ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ اور زیادہ خبیث ہے ، یہ اور زیادہ خبیث ہے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ترمذی نے اس سیاق کے بغیر نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن ابولیلیٰ ہے وہ ثقہ ہے لیکن وہ خراب حافظے کا مالک ہے ۔
یہ روایت امام ترمذی نے اس سیاق کے بغیر نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن ابولیلیٰ ہے وہ ثقہ ہے لیکن وہ خراب حافظے کا مالک ہے ۔