کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: تاجروں کا بیان ، ان کے لئے اپنے سودے میں کون سی شرائط رکھنا مناسب ( یعنی جائز ) ہے
حدیث نمبر: 6299
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَى جَمَاعَةً مِنَ التُّجَّارِ ، فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ ، " . فَاسْتَجَابُوا لَهُ وَمَدُّوا أَعْنَاقَهُمْ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ بَاعِثُكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فُجَّارًا إِلَّا مَنْ صَدَقَ وَبَرَّ وَأَدَّى الْأَمَانَةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تاجروں کے ایک گروہ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : اے تاجروں کے گروہ ! ان لوگوں نے آپ کی بات کا جواب دیا اور گردنیں آپ کی طرف موڑ لیں تو آپ نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمہیں فاجروں کی شکل میں اٹھائے گا البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ، جو سچ بولتا ہے نیکی کرتا ہے اور امانت ادا کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حارث بن عبیدہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6299
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13499)»
حدیث نمبر: 6300
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا خَيْرَ فِي التِّجَارَةِ إِلَّا لِمَنْ لَمْ يَمْدَحْ بَيْعًا ، وَلَمْ يَذُمَّ مَا اشْتَرَى ، وَكَسَبَ حَلَالًا ، وَأَعْطَاهُ ، وَعَزَلَ فِي ذَلِكَ الْحَلِفَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ رَاشِدٍ وَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تجارت میں کوئی بھلائی نہیں ہے البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ، جو سودے کی ( غیر ضروری ) تعریف نہیں کرتا اور وہ جو چیز خریدتا ہے اس کی مذمت نہیں کرتا ہے اور وہ حلال کماتا ہے اور حلال ہی دیتا ہے اور اس بارے میں قسم اٹھانے سے الگ رہتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن راشد ہے ، جسے عجلی نے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6300
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 6301
وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْرُجُ إِلَيْنَا وَكُنَّا تُجَّارًا ، وَكَانَ يَقُولُ : " يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ إِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْغَنَوِيُّ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف تشریف لائے ہم اس وقت تجارت کر رہے تھے آپ نے فرمایا : اے تاجروں کے گروہ ! تم جھوٹ بولنے سے بچ کے رہنا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسحاق غنوی ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6301
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (56/22)»
حدیث نمبر: 6302
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ التُّجَّارَ هُمُ الْفُجَّارُ ، إِنَّ التُّجَّارَ هُمُ الْفُجَّارُ " . قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَمْ يُحِلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ ؟ قَالَ : " بَلَى " . قَالَ : " إِنَّهُمْ يَقُولُونَ فَيَكْذِبُونَ ، وَيَحْلِفُونَ ، وَيَأْثَمُونَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ هَكَذَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن شبل انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک تاجر ہی گناہگار ہوں گے بے شک تاجر ہی گناہگار ہوں گے ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا اللہ تعالیٰ نے اس خرید و فروخت کو حلال قرار نہیں دیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! آپ نے فرمایا : یہ لوگ بولتے ہیں تو جھوٹ بولتے ہیں اور قسم اٹھاتے ہیں ( تو جھوٹی قسم اٹھا کر ) گناہگار ہوتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اس طرح نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6302
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (444 و 428/3)»
حدیث نمبر: 6303
- وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، فَقَالَ : عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " اقْرَءُوا الْقُرْآنَ ، وَلَا تَغْلُوا فِيهِ ، وَلَا تَجْفُوا عَنْهُ ، وَلَا تَأْكُلُوا بِهِ ، وَلَا تَسْتَكْثِرُوا بِهِ " . ¤ وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ التُّجَّارَ هُمُ الْفُجَّارُ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَيْسَ قَدْ أَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ ؟ قَالَ : " بَلَى ، وَلَكِنَّهُمْ يُحَدِّثُونَ فَيَكْذِبُونَ وَيَحْلِفُونَ وَيَأْثَمُونَ " . ¤ وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ الْفُسَّاقَ هُمْ أَهْلُ النَّارِ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الْفُسَّاقُ ؟ قَالَ : " النِّسَاءُ " . قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَيْسُوا أُمَّهَاتِنَا وَأَخَوَاتِنَا ، وَأَزْوَاجَنَا ؟ قَالَ : " بَلَى ، وَلَكِنَّهُنَّ إِذَا أُعْطِينَ لَمْ يَشْكُرْنَ ، وَإِذَا ابْتُلِينَ لَمْ يَصْبِرْنَ " . ¤ وَرِجَالُ الْجَمِيعِ ثِقَاتٌ ، وَلَهُ طَرِيقٌ فِي الْأَدَبِ أَطْوَلُ مِنْ هَذِهِ . ¤
محمد محی الدین
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبدالرحمن بن شبل رضی اللہ عنہ سے یہ روایت منقول ہے ۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ” تم قرآن پڑھو اور اس میں غلو نہ کرو اور اس سے جفا نہ کرو اور اس کا معاوضہ نہ کھاؤ اور اس کے ذریعے ( مال کی ) کثرت کے طلبگار نہ بنو “ ۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک تاجر لوگ ہی گناہگار ہوں گے لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا اللہ تعالی نے خرید و فروخت کو حلال قرار نہیں دیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! لیکن یہ بات بھی ہے ) جب یہ لوگ بات کرتے ہیں جھوٹ بولتے ہیں اور قسم اٹھاتے ہیں تو گناہگار ہوتے ہیں“ ۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک فاسق لوگ ہی جہنمی ہیں لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! فاسق لوگ کون ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : خواتین ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا یہ خواتین ہماری مائیں ہماری بہنیں اور ہماری بیویاں نہیں ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! لیکن جب انہیں کوئی چیز دی جائے تو یہ شکر گزار نہیں ہوتی ہیں اور جب انہیں آزمائش میں مبتلا کیا جائے تو یہ صبر نہیں کرتی ہیں “ ۔ ان تمام روایات کے رجال ثقہ ہیں ” ادب“ سے متعلق باب میں یہ ایک اور سند کے ساتھ منقول ہے ، جو اس سے زیادہ طویل روایت ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6303
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (428/3 و 444) كذلك مطولا»