حدیث نمبر: 5904
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : سَقَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِي مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ فِي نِسْوَةٍ فَقَالَ : [ لَوْ ] أَنِّي سَقَيْتُكُمْ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةُ لَكَرِهْتُمْ ، وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ . ¤ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں : ” میں نے اپنے ہاتھوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ”بئر بضاعہ“ (بضاعہ نامی کنویں) کا پانی پلایا “۔
اسے امام أحمد نے روایت کیا ہے ، اور ابویعلیٰ نے بھی (انہی سے روایت کی ہے ) سوائے اس کے کہ ان کے الفاظ یہ ہیں : ” ہم چند عورتوں کے ساتھ سیدنا سہل بن سعد (رضی اللہ عنہ) کے پاس حاضر ہوئے ، تو انہوں نے فرمایا : اگر میں تمہیں ”بئر بضاعہ “سے پانی پلاؤں تو تم اسے ناپسند کرو گے “ ؛ باقی حدیث اسی طرح ہے ۔
اور اسے طبرانی نے بھی ”المعجم الکبیر “ میں روایت کیا ہے ، اور اس کے تمام راوی ثقہ (قابلِ اعتماد) ہیں ۔
اسے امام أحمد نے روایت کیا ہے ، اور ابویعلیٰ نے بھی (انہی سے روایت کی ہے ) سوائے اس کے کہ ان کے الفاظ یہ ہیں : ” ہم چند عورتوں کے ساتھ سیدنا سہل بن سعد (رضی اللہ عنہ) کے پاس حاضر ہوئے ، تو انہوں نے فرمایا : اگر میں تمہیں ”بئر بضاعہ “سے پانی پلاؤں تو تم اسے ناپسند کرو گے “ ؛ باقی حدیث اسی طرح ہے ۔
اور اسے طبرانی نے بھی ”المعجم الکبیر “ میں روایت کیا ہے ، اور اس کے تمام راوی ثقہ (قابلِ اعتماد) ہیں ۔
حدیث نمبر: 5905
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَزَلَ فِي بِئْرِ بُضَاعَةَ وَبَصَقَ فِيهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بضاعہ کنویں میں اترے تھے اور آپ نے اس میں لعاب دہن ڈالا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبد المہین بن عباس ابن سہل ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبد المہین بن عباس ابن سہل ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 5906
وَعَنْ مَالِكِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ الْخَزْرَجِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي أُسَيْدٍ : وَلَهُ بِئْرٌ بِالْمَدِينَةِ يُقَالُ لَهَا : بِئْرُ بُضَاعَةَ قَدْ بَصَقَ فِيهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - - فَهِيَ يُبَشِّرُ بِهَا وَيَتَيَمَّنُ بِهَا . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ فِي التَّفْسِيرِ فِي سُورَةِ الْبَقَرَةِ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
مالک بن حمزہ بن ابواسید ساعدی خزرجی نے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ سے یہ روایت نقل کی ہے ان کا مدینہ منورہ میں ایک کنواں تھا جس کو بئر بضاعہ کہا: جاتا تھا اس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعاب دہن ڈالا تھا تو وہ اس کے حوالے سے خوشخبری دیتے تھے اور اس کے ذریعے برکت حاصل کرتے تھے۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت مکمل روایت کے طور پر تفسیر سے متعلق باب میں سورت بقرہ کی تفسیر میں آئے گی اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت مکمل روایت کے طور پر تفسیر سے متعلق باب میں سورت بقرہ کی تفسیر میں آئے گی اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔