کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: جو شخص اپنی طرف سے حج کرنے سے پہلے کسی اور کی طرف سے حج کرے اس کا بیان
حدیث نمبر: 5688
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَمِعَ رَجُلًا يُلَبِّي عَنْ شُبْرُمَةَ قَالَ : " وَمَا شُبْرُمَةُ ؟ " ، قَالَ : فَذَكَرُوا قَرَابَةً ، قَالَ : أَحَجَجْتَ عَنْ نَفْسِكَ ؟ " ، قَالَ : لَا ، قَالَ : " فَاحْجُجْ عَنْ نَفْسِكَ ، ثُمَّ حُجَّ عَنْ شُبْرُمَةَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو سنا جو ثبرمہ کی طرف سے تلبیہ پڑھ رہا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : شبرمہ کون ہے ؟ راوی بیان کرتے ہیں : ان لوگوں نے اس کے ساتھ رشتہ داری کا ذکر کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم نے اپنی طرف سے حج کر لیا ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر تم اپنی طرف سے حج کرو پھر شبرمہ کی طرف سے حج کرنا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن ابولیلی ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن ابولیلی ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 5689
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : سَمِعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا يَقُولُ : لَبَّيْكَ عَنْ شُبْرُمَةَ ، فَقَالَ : " أَحَجَجْتَ عَنْ نَفْسِكَ ؟ " ، قَالَ : لَا ، قَالَ : " حُجَّ عَنْ نَفْسِكَ ثُمَّ حُجَّ عَنْ شُبْرُمَةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ثُمَامَةُ بْنُ عُبَيْدَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا : میں شبرمہ کی طرف سے حاضر ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم نے اپنی طرف سے حج کر لیا ہوا ہے ؟ اس نے عرض کی : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنی طرف سے حج کرو پھر شبرمہ کی طرف سے حج کرنا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ثمامہ بن عبیدہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ثمامہ بن عبیدہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔