حدیث نمبر: 5516
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ مُلْتَزَمٌ مَا يَدْعُو بِهِ صَاحِبُ عَاهَةٍ إِلَّا بَرَأَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ الثَّقَفِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” رکن اور مقام کے درمیان والی جگہ ملتزم ہے ، جو بھی بیمار شخص اس کے پاس دعا کرتا ہے وہ ٹھیک ہو جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عباد بن کثیر ثقفی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5516
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11837)»
حدیث نمبر: 5517
وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ خَيْثَمَةَ جُلُوسٌ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَطَافَ بِالْبَيْتِ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ بِفِنَاءِ الْبَيْتِ ، فَلَمَّا فَرَغَ قَامَ فَالْتَزَمَ الْبَيْتَ ، فَلَمَّا رَآهُ قَالَ : هَذَا مَا أَحْدَثْتُمْ لَمْ نَكُنْ نَفْعَلُهُ . ثُمَّ قَالَ : مَا رَضِيَ حَتَّى يَضْرِبَهَا بِاسْتِهِ . ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ ، فَلَمَّا بَلَغَ بَابَ الْمَسْجِدِ رَفَعَ يَدَيْهِ ، فَاسْتَقْبَلَ الْبَيْتَ كَأَنَّهُ يَدْعُو فَقَالَ : هَذَا مَا أَحْدَثْتُمْ لَمْ نَكُنْ نَفْعَلُهُ . فَسَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَعْدٍ : هَلْ شَهِدْتَ بَدْرًا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَالْعَقَبَةَ مَعَ أَبِي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
مغیرہ بن ابوحکیم بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم لوگ سیدنا عبداللہ بن سعد بن خیثمہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اسی دوران ایک شخص آیا اس نے بیت اللہ کا طواف کیا اور بیت اللہ کے صحن میں دو رکعت ادا کر لیں جب وہ فارغ ہوا ، تو کھڑا ہوا اور بیت اللہ کے ساتھ چمٹ گیا جب انہوں نے اسے دیکھا تو کہا: یہ وہ چیز ہے ، جو تم لوگوں نے ایجاد کی ہے ہم ایسا نہیں کیا کرتے تھے پھر انہوں نے فرمایا : یہ اس وقت تک راضی نہیں ہو گا جب تک یہ اپنی پیٹھ پر ہاتھ نہیں مارے گا پھر وہ شخص آیا جب مسجد کے دروازے تک پہنچا تو اس نے دونوں ہاتھ بلند کیے بیت اللہ کی طرف رخ کیا یوں لگ رہا تھا جیسے وہ دعا کر رہا ہے ، تو سیدنا عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ وہ چیز ہے ، جو تم لوگوں نے ایجاد کی ہے ہم ایسا نہیں کرتے تھے راوی کہتے ہیں : ہم نے سیدنا عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : کیا آپ غزوہ بدر میں شریک ہوئے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! میں اپنے والد کے ساتھ بیعت عقبہ میں بھی شریک ہوا ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5517
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن