کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ایک اونٹ اور ایک گائے کتنے آدمیوں کی طرف سے کفایت کرتے ہیں ؟
عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ قُلْتُ : الْجَزُورُ وَالْبَقَرَةُ تُجْزِئُ عَنْ سَبْعَةٍ ؟ قَالَ : يَا شَعْبِيُّ وَلَهَا سَبْعَةُ أَنْفُسٍ ؟ قَالَ : قُلْتُ : إِنَّ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَنَّ الْجَزُورَ عَنْ سَبْعَةٍ ، وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ ؟ قَالَ : فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ لِرَجُلٍ : أَكَذَاكَ يَا فُلَانُ ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : مَا شَعَرْتُ بِهَذَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
امام شعبی بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا : کیا ایک اونٹ اور ایک گائے سات افراد کی طرف سے کفایت کر جاتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : اے شعبی ! کیا وہ سات آدمیوں کے لئے ہوں گے ؟ میں نے کہا: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کا تو یہی کہنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنت مقرر کی ہے کہ ایک اونٹ سات آدمیوں کی طرف سے اور ایک گائے سات آدمیوں کی طرف سے قربان کی جائے گی تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک شخص سے دریافت کیا : اے فلاں ! کیا ایسا ہی ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ۔ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : مجھے اس کا پتہ نہیں تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْجَزُورُ وَالْبَقَرَةُ عَنْ سَبْعَةٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَفْصُ بْنُ جُمَيْعٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایک اونٹ اور ایک گائے سات افراد کی طرف سے ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقص کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی حفص بن جمیع ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقص کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی حفص بن جمیع ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ شَرَّكَ بَيْنَ سَبْعَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فِي الْبَدَنَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى الصَّدَفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حدیبیہ کے سال میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے اپنے اصحاب میں سے سات افراد کو قربانی کے ایک جانور میں حصہ دار قرار دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی معاویہ بن یحیی صدفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی معاویہ بن یحیی صدفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔