حدیث نمبر: 5281
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَافِرُوا تَصِحُّوا وَتَسْلَمُوا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَارُونَ أَبُو عَلْقَمَةَ الْفَرَوِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي فَضْلِ الصَّوْمِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ سفر کرو تم صحت مند رہو گے اور سلامت رہو گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن ہارون ابوعلقمہ فروی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ اس سے پہلے روزے کی فضیلت سے متعلق باب میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث گزر چکی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن ہارون ابوعلقمہ فروی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ اس سے پہلے روزے کی فضیلت سے متعلق باب میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث گزر چکی ہے ۔
حدیث نمبر: 5282
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنَ الْعَذَابِ ; لِأَنَّ الرَّجُلَ يَشْتَغِلُ فِيهِ عَنْ صِيَامِهِ وَصَلَاتِهِ وَعِبَادَتِهِ ، فَإِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ نَهْمَتَهُ مِنْ سَفَرِهِ فَلْيُعَجِّلِ الرُّجُوعَ إِلَى أَهْلِهِ " . ¤ قُلْتُ : هَكَذَا رَوَاهُ مُرْسَلًا . وَفِي الصَّحِيحِ مَعْنَاهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ . وَهُوَ فَرْدٌ مِنْ حَدِيثٍ مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ لَا يَصِحُّ إِلَّا مِنْ طَرِيقِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
سعید بن ابوسعید مقبری روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے ، جو آدمی کو اس کی نماز روزے اور عبادت کے حوالے سے مشغول رکھتا ہے ، جب کوئی شخص سفر کے حوالے سے اپنا کام پورا کر لے تو اسے جلدی اپنے گھر والوں کی طرف چلے جانا چاہیے “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : انہوں نے اس روایت کو اسی طرح ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کیا ہے اسی مضمون کی روایت ” صحیح “ میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث کے طور پر منقول ہے ، اور وہ امام مالک کی سمی کے حوالے سے ابوصالح کے حوالے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ روایت ہے ، جو اس سند کے حوالے سے مستند نہیں ہے
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : انہوں نے اس روایت کو اسی طرح ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کیا ہے اسی مضمون کی روایت ” صحیح “ میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث کے طور پر منقول ہے ، اور وہ امام مالک کی سمی کے حوالے سے ابوصالح کے حوالے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ روایت ہے ، جو اس سند کے حوالے سے مستند نہیں ہے
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 5283
وَعَنْ عَائِشَةَ ، وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنَ الْعَذَابِ ، يَمْنَعُ أَحَدَكُمْ نَوْمَهُ وَطَعَامَهُ وَشَرَابَهُ وَلَذَّتَهُ ، فَإِذَا فَرَغَ أَحَدُكُمْ مِنْ حَاجَتِهِ فَلْيَتَعَجَّلْ إِلَى أَهْلِهِ " . قُلْتُ : حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الصَّحِيحِ . ¤ وَفِيهِ رَوَّادُ بْنُ الْجَرَّاحِ ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : يُخْطِئُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے ، جو تم میں سے کسی ایک شخص کو سونے سے کھانے سے پینے سے لذت حاصل کرنے سے روک دیتا ہے ، تو جب کوئی شخص اپنا کام پورا کر لے تو وہ اپنے گھر والوں کی طرف جلدی چلا جائے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رواد بن جراح ہے ، جس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ۔ ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔