کتب حدیث › مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب › باب: حج اور عمرہ کی فضیلت کا بیان
❮
❯
عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الْإِسْلَامُ ؟ قَالَ : " أَنْ تُسْلِمَ قَلْبَكَ ، وَأَنْ يَسْلَمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِكَ وَيَدِكَ " . قَالَ : فَأَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " الْإِيمَانُ " . قَالَ : وَمَا الْإِيمَانُ ؟ قَالَ : " أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ " . قَالَ : فَأَيُّ الْإِيمَانِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " الْهِجْرَةُ " . قَالَ : وَمَا الْهِجْرَةُ ؟ قَالَ : " أَنْ تَهْجُرَ السُّوءَ " . قَالَ : فَأَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " الْجِهَادُ " . قَالَ : وَمَا الْجِهَادُ ؟ قَالَ : " أَنْ تُقَاتِلَ الْكُفَّارَ إِذَا لَقِيتَهُمْ " . قَالَ : فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " مَنْ عُقِرَ جَوَادُهُ وَأُهْرِيقَ دَمُهُ " . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثُمَّ عَمَلَانِ هُمَا أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ إِلَّا مَنْ عَمِلَ بِمِثْلِهِمَا : حَجَّةٌ مَبْرُورَةٌ أَوْ عُمْرَةٌ " .
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اسلام کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ کہ تم اپنے دل کو فرمانبردار کر لو اور مسلمان تمہاری زبان اور تمہارے ہاتھ کے حوالے سے محفوظ رہیں اس شخص نے دریافت کیا : کون سا اسلام زیادہ فضیلت رکھتا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایمان اس نے عرض کی : ایمان کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ کہ تم اللہ تعالیٰ اس کے فرشتوں اس کی کتابوں اس کے رسولوں اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے پر ایمان رکھو اس نے دریافت کیا : کون سا ایمان زیادہ فضیلت رکھتا ہے آپ نے ارشاد فرمایا : ہجرت اس نے عرض کی : ہجرت سے مراد کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ کہ تم برائی سے لاتعلق ہو جاؤ اس نے دریافت کیا : کون سی ہجرت زیادہ فضیلت رکھتی ہے آپ نے ارشاد فرمایا : جہاد اس نے دریافت کیا : جہاد سے مراد کیا ہے ؟ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) یہ کہ جب تمہارا کفار سے سامنا ہو تو تم ان کے ساتھ جنگ کرو اس نے دریافت کیا : کون سا جہاد زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : ( اس شخص کا ) جس کے گھوڑے کے پاؤں کاٹ دیے جائیں اور اس کا خون بہا دیا جائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” پھر دو عمل ہیں جو تمام اعمال سے زیادہ افضل ہیں البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ، جس نے ان دونوں کی مانند عمل کیا ہو ، مبرور حج یا عمرہ “ ۔
یہ روایت امام حمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5262
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (114/4) ، أخرجه مسند أحمد برقم: 16579، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 20107، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 110/1»
وَعَنْ مَاعِزٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سُئِلَ : أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَحْدَهُ ، ثُمَّ الْجِهَادُ ، ثُمَّ حَجَّةٌ بَرَّةٌ تَفْضُلُ سَائِرَ الْأَعْمَالِ كَمَا بَيْنَ مَطْلَعِ الشَّمْسِ إِلَى مَغْرِبِهَا " .
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
سیدنا ماعز رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ سے سوال کیا گیا کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے آپ نے ارشاد فرمایا : صرف اللہ تعالی پر ایمان رکھنا ( یعنی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان رکھنا ) پھر جہاد اور پھر مبرور حج تمام اعمال پر وہی فضیلت رکھتا ہے ، جس طرح سورج کے طلوع ہونے سے لے کر اس کے غروب ہونے کے درمیان کا فاصلہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5263
درجۂ حدیث محدثین: اسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (344/20) اخرجه احمد فى المسند (342/4) ، أخرجه مسند أحمد برقم: 18531»
وَعَنِ الشِّفَاءِ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ : أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " إِيمَانٌ بِاللَّهِ ، وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ ، وَحَجٌّ مَبْرُورٌ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
سیدہ شفاء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ایک شخص نے آپ سے سوال کیا کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنا اس کی راہ میں جہاد کرنا اور مبرور حج“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5264
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ " .
رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مبرور حج کا بدلہ صرف جنت ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ثابت ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5265
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (325/3 و 334) ، أخرجه مسند أحمد برقم: 7307، وأخرجه موطأ مالك برقم: 776، وأخرجه سنن الدارمي برقم: 1795، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 11429»
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ " . قِيلَ : وَمَا بِرُّهُ ؟ قَالَ : " إِطْعَامُ الطَّعَامِ وَطِيبُ الْكَلَامِ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ .
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما نبی اکرم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مبرور حج کی جزا صرف جنت ہے عرض کی گئی : اس کے مبرور ہونے سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کھانا کھلانا اور پاکیزہ گفتگو کرنا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5266
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (113/1) ، أخرجه مسند أحمد برقم: 7307، وأخرجه موطأ مالك برقم: 776، وأخرجه سنن الدارمي برقم: 1795، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 11429»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْأَيْلِيُّ قَالَ الْعُقَيْلِيُّ : رَوَى عَنْهُ يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ مَنَاكِيرَ .
قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ كَثِيرَةٌ فِي فَضْلِ الْحَجِّ فِي أَوَاخِرِ كِتَابِ الْحَجِّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مبرور حج کی جزا صرف جنت ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن صالح ایلی ہے عقیلی کہتے ہیں : یحیی بن بکیر نے اس کے حوالے سے منکر روایات نقل کی ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حج کی فضیلت کے بارے میں بہت سی احادیث کتاب الج کے آخر میں آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5267
درجۂ حدیث محدثین: إسناده مصنف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11429) ، أخرجه مسند أحمد برقم: 7307، وأخرجه موطأ مالك برقم: 776، وأخرجه سنن الدارمي برقم: 1795، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 11429»
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " النَّفَقَةُ فِي الْحَجِّ كَالنَّفَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِسَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ " .
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو زُهَيْرٍ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ .
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” حج میں خرچ کرنا اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی مانند ہے کہ اس کا اجر سات سو گنا ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوزہیر ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5268
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (354/5 و 355) ، أخرجه مسند أحمد برقم: 22491، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 5270»
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَجُّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ النَّفَقَةُ فِيهِ الدِّرْهَمُ بِسَبْعِمِائَةٍ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ .
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ کی راہ میں حج کرنا اس میں ایک درہم خرچ کرنا سات سو گنا ( اجر و ثواب کا باعث بنتا ہے ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا شخص ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5269
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «أخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 5690»
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِلْكَعْبَةِ لِسَانًا وَشَفَتَيْنِ ، وَلَقَدِ اشْتَكَتْ إِلَى اللَّهِ فَقَالَتْ : يَا رَبِّ قَلَّ عُوَّادِي ، وَقَلَّ زُوَّارِي . فَأَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا خُشَّعًا سُجَّدًا ; يَحِنُّونَ إِلَيْكِ كَمَا تَحِنُّ الْحَمَامَةُ إِلَى بَيْضِهَا " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَهْلُ بْنُ قَرِينٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” خانہ کعبہ کی ایک زبان اور دو ہونٹ ہیں اس نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شکایت کرتے ہوئے یہ کہا: اے میرے پروردگار ! میرے پاس آنے والے اور میری زیارت کرنے والے تھوڑے ہو گئے ہیں ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ وحی کی : میں ایسے انسانوں کو پیدا کروں گا ، جو خشوع والے ہوں گے سجدہ کرنے والے ہوں گے وہ تمہاری طرف یوں آئیں گے جس طرح کبوتری اپنے انڈوں کی طرف جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سہل بن قرین ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5270
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «أخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 6063»
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ دَاوُدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِلَهِي ، مَا لِعِبَادِكَ عَلَيْكَ إِذَا هُمْ زَارُوكَ فِي بَيْتِكَ ؟ قَالَ : إِنَّ لِكُلِّ زَائِرٍ عَلَى الْمَزُورِ حَقًّا ، يَا دَاوُدُ إِنَّ لَهُمْ عَلَيَّ أَنْ أُعَافِيَهُمْ فِي الدُّنْيَا ، وَأَغْفِرَ لَهُمْ إِذَا لَقِيتُهُمْ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَمْزَةَ الرَّقِّيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سیدنا داؤد نبی علیہ السلام نے عرض کی : اے میرے معبود تیرے بندوں کا تجھ پر کیا حق ہو گا جب وہ تیرے گھر کی زیارت کے لئے تیری بارگاہ میں آئیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ہر ملاقاتی کا میزبان پر حق ہوتا ہے اے داؤد ! ان لوگوں کا مجھ پر یہ حق ہو گا کہ میں انہیں دنیا میں عافیت عطا کروں گا ، اور جب میں ان سے ملوں گا ، تو ان کی مغفرت کر دوں گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حمزہ رقی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5271
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «أخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 6034»
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَفَعَهُ قَالَ : " مَا أَمْعَرَ حَاجٌّ قَطُّ " . قِيلَ لِجَابِرٍ : مَا الْإِمْعَارُ ؟ قَالَ : مَا افْتَقَرَ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما ” مرفوع “ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : حج کرنے والا شخص کبھی ” امعار “ کا شکار نہیں ہوتا سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا : ” امعار “ سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : یعنی وہ فقیر نہیں ہوتا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5272
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (110/1) اخرجه البزار فى المسند (1080) ، أخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 5209»
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ خَرَجَ فِي هَذَا الْوَجْهِ لِحَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ فَمَاتَ فِيهِ لَمْ يُعْرَضْ وَلَمْ يُحَاسَبْ ، وَقِيلَ لَهُ : ادْخُلِ الْجَنَّةَ " .
قَالَتْ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ يُبَاهِي بِالطَّائِفِينَ " .
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ الْعَدَوِيُّ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَإِسْنَادُ أَبِي يَعْلَى فِيهِ عَائِذُ بْنُ بَشِيرٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص حج کرنے کے لئے یا عمرہ کرنے کے لئے نکلتا ہے ، اور راستے میں مر جاتا ہے ، تو اسے ( حساب کے لئے ) پیش نہیں کیا جائے گا ، اور اس سے حساب نہیں لیا جائے گا اس سے کہا: جائے گا : تم جنت میں داخل ہو جاؤ “ ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ طواف کرنے والوں کے حوالے سے فخر کا اظہار کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام طبرانی کی سند میں ایک راوی محمد بن صالح عدوی ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں امام ابویعلیٰ کی سند میں ایک راوی عائذ بن بشیر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5273
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (4608) ، أخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 5384، وأخرجه المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية برقم: 1169، 1216، وأخرجه صحيح مسلم برقم: 1348، وأخرجه سنن ابن ماجه برقم: 3014»
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ خَرَجَ حَاجًّا فَمَاتَ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ أَجْرُ الْحَاجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ . وَمَنْ خَرَجَ مُعْتَمِرًا فَمَاتَ كُتِبَ اللَّهُ لَهُ أَجْرُ الْمُعْتَمِرِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ خَرَجَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَمَاتَ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ أَجْرُ الْغَازِي إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَمِيلُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ، وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ جَرْحًا وَلَا تَعْدِيلًا ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص حج کرنے کے لئے نکلتا ہے ، اور مر جاتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اُس کے لیے قیامت کے دن تک کے لئے حاجی کا ثواب نوٹ کرتا ہے ، اور جو شخص عمرہ کرنے کے لئے نکلتا ہے ، اور مر جاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے قیامت کے دن تک عمرے کرنے والے کا ثواب نوٹ کرتا ہے ، اور جو شخص اللہ کی راہ میں جنگ میں حصہ لینے کے لئے نکلتا ہے ، اور مر جاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے قیامت تک غازی کا اجر نوٹ کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جمیل بن ابومیمونہ ہے ، جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ۔ انہوں نے اس کے بارے میں کوئی جرح یا تعدیل ذکر نہیں کی ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات“ میں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5274
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «أخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 5317، وأخرجه المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية برقم: 1170، 1947، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 2435، 4288»
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ هَذَا الْبَيْتَ دِعَامَةٌ مِنْ دَعَائِمِ الْإِسْلَامِ ، فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَهُوَ ضَامِنٌ عَلَى اللَّهِ ; فَإِنْ مَاتَ أَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ ، وَإِنْ رَدَّهُ إِلَى أَهْلِهِ رَدَّهُ بِأَجْرٍ وَغَنِيمَةٍ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک یہ گھر اسلام کے ستونوں میں سے ایک ستون ہے ، جو شخص بیت اللہ کا حج کرتا ہے ، یا عمرہ کرتا ہے ، تو وہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہوتا ہے کہ اگر وہ شخص مر گیا ، تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا ، اور اگر اللہ تعالی نے اسے اس کے گھر والوں کی طرف لوٹا دیا تو اسے اجر اور غنیمت کے ہمراہ لوٹائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ بن عبید بن عمیر ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5275
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «أخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 9029»
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا رَاحَ مُسْلِمٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مُجَاهِدًا أَوْ حَاجًّا مُهِلًّا أَوْ مُلَبِّيًا إِلَّا غَرَبَتِ الشَّمْسُ بِذُنُوبِهِ وَخَرَجَ مِنْهَا " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ .
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو بھی مسلمان اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لئے یا حج کرنے کے لئے احرام باندھ کر یا تلبیہ پڑھتے ہوئے نکلتا ہے ، تو سورج اس کے گناہوں سمیت غروب ہو جاتا ہے ، اور وہ ان گناہوں سے نکل جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5276
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «أخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 6161»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَرَادٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حُجُّوا ; فَإِنَّ الْحَجَّ يَغْسِلُ الذُّنُوبَ كَمَا يَغْسِلُ الْمَاءُ الدَّرَنَ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَعْلَى بْنُ الْأَشْدَقِ ، وَهُوَ كَذَّابٌ .
وَتَأْتِي أَحَادِيثُ كَثِيرَةٌ فِي فَضْلِ الْحَجِّ بَعْدَ هَذَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن جراد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ حج کرو کیونکہ حج گناہوں کو یوں دھو دیتا ہے ، جس طرح پانی میں کو دھو دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یعلی بن اشدق ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔ حج کی فضیلت کے بارے میں بہت سی احادیث آگے اس کے بعد آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5277
درجۂ حدیث محدثین: موضوع