کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: میت کے پاس خواتین کا موجود ہونا
حدیث نمبر: 4107
عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا خَيْرَ فِي جَمَاعَةِ النِّسَاءِ وَلَا عِنْدَ مَيِّتٍ ; فَإِنَّهُمْ إِذَا اجْتَمَعْنَ قُلْنَ وَقُلْنَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ أَحَادِيثُ فِي هَذَا فِي مَوَاضِعِهَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” خواتین کی جماعت ( یا اجتماع ) اور میت کے پاس ان کی موجودگی میں کوئی بھلائی نہیں ہے کیونکہ جب وہ اکھٹی ہوں گی تو ایسی ویسی باتیں کریں گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی وازع بن نافع ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ اس سے پہلے اس بارے میں احادیث دیگر مقامات پر گزر چکی ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4107
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13228)»