کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: جو شخص حرمین میں سے کسی ایک جگہ انتقال کر جائے ، اس کا بیان
حدیث نمبر: 3889
عَنْ سَلْمَانَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ مَاتَ فِي أَحَدِ الْحَرَمَيْنِ اسْتَوْجَبَ شَفَاعَتِي ، وَكَانَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْآمَنِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْغَفُورِ بْنُ سَعِيدٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص حرمین میں سے کسی ایک جگہ انتقال کر جائے اس کے لئے میری شفاعت واجب ہو جائے گی ، اور وہ شخص قیامت کے دن امن والے لوگوں میں سے ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالغفور بن سعید ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالغفور بن سعید ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 3890
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ مَاتَ فِي أَحَدِ الْحَرَمَيْنِ بُعِثَ آمِنًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص حرمین میں سے کسی ایک جگہ انتقال کر جائے قیامت کے دن اسے امن کی حالت میں دوبارہ زندہ کیا جائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبدالرحمن مسروقی ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مومل ہے ۔ ابن حبان اور دیگر حضرات نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔ امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔ اس روایت کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبدالرحمن مسروقی ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مومل ہے ۔ ابن حبان اور دیگر حضرات نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔ امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔ اس روایت کی سند حسن ہے ۔