کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جب کسی جگہ پڑاؤ کیا جائے تو نماز ادا کرنا
حدیث نمبر: 3682
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا نَزَلَ مَنْزِلًا لَمْ يَرْتَحِلْ مِنْهُ حَتَّى يُوَدِّعَهُ بِرَكْعَتَيْنِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ ، وَثَّقَهُ أَبُو نُعَيْمٍ وَأَبُو حَاتِمٍ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی جگہ پڑاؤ کرتے تھے تو آپ وہاں سے اس وقت تک روانہ نہیں ہوتے تھے ، جب تک آپ وہاں دو رکعات ادا نہیں کر لیتے تھے ۔
یہ روایت امام ابویعلی اور امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن سعد ہے ، جسے ابونعیم اور ابوحاتم نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3682
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «صحيح ابن خزيمة ، جماع أبواب صلاة التطوع فى السفر باب صلاة التطوع فى السفر عند توديع المنازل 1188 المستدرك على الصحيحين للحاكم ، من كتاب صلاة التطوع، فأما حديث عبد الله بن فروخ ، 1123 سنن الدارمي ، ومن كتاب الاستئذان باب فى الركعتين إذا نزل منزلا 2635 السنن الكبرى للبيهقى ، جماع أبواب وقت الحج والعمرة ، جماع أبواب آداب السفر، باب ما يقول إذا نزل منزلاً ، حديث 9697 مسند أبى يعلى الموصلي ، سعيد بن سنان ، 4200 المعجم الأوسط للطبراني باب الحاء من اسمه الحسن، 3522»
حدیث نمبر: 3683
وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا نَزَلَ مَنْزِلًا فِي سَفَرٍ أَوْ دَخَلَ بَيْتَهُ لَمْ يَجْلِسْ حَتَّى يَرْكَعَ رَكْعَتَيْنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْوَاقِدِيُّ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ مُصْعَبٌ الزُّبَيْرِيُّ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ كَثِيرُونَ مِنَ الْأَئِمَّةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کے دوران جب کسی جگہ پڑاؤ کرتے تھے پھر جب اپنے گھر میں تشریف لاتے تھے تو آپ اس وقت تک نہیں بیٹھتے تھے ، جب تک دو رکعات ادا نہیں کر لیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے ، جسے مصعب زبیری اور دیگر حضرات نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔ ائمہ کی ایک جماعت نے اسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3683
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً