حدیث نمبر: 2025
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنَّ لِلْمَسَاجِدِ أَوْتَادًا، الْمَلَائِكَةُ جُلَسَاؤُهُمْ إِنْ غَابُوا يَفْتَقِدُونَهُمْ وَإِنْ مَرِضُوا عَادُوهُمْ وَإِنْ كَانُوا فِي حَاجَةٍ أَعَانُوهُمْ " ثُمَّ قَالَ : " جَلِيسُ الْمَسْجِدِ عَلَى ثَلَاثِ خِصَالٍ : أَخٌ مُسْتَفَادٌ ، أَوْ كَلِمَةٌ مُحْكَمَةٌ ، أَوْ رَحْمَةٌ مُنْتَظَرَةٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مسجد کے کچھ کیل ہوتے ہیں ( یعنی جو ہمیشہ مسجد میں رہتے ہیں ) فرشتے ان لوگوں کے ساتھ بیٹھتے ہیں اگر وہ لوگ غیر موجود ہوں تو فرشتے ان کی غیر موجودگی کے بارے میں دریافت کرتے ہیں اگر وہ لوگ بیمار ہو جائیں تو فرشتے ان کی عیادت کرتے ہیں اگر وہ لوگ کسی کام میں مصروف ہوں تو فرشتے ان کی مدد کرتے ہیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مسجد میں بیٹھا ہوا شخص تین میں سے کسی ایک صورت کا ہوتا ہے ( یعنی اس کو ان تین میں سے کوئی ایک چیز ضرور نصیب ہوتی ہے ) ، ایسا بھائی جس سے فائدہ حاصل کیا جائے ایسی بات جو محکم ہو اور ایسی رحمت جس کا انتظار کیا جا رہا ہو “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2026
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الْمَسْجِدُ بَيْتُ كُلِّ تَقِيٍّ وَتَكَفَّلَ اللَّهُ لِمَنْ كَانَ الْمَسْجِدُ بَيْتَهُ بِالرَّوْحِ وَالرَّحْمَةِ وَالْجَوَازِ عَلَى الصِّرَاطِ إِلَى رِضْوَانِ اللَّهِ إِلَى الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَالْبَزَّارُ وَقَالَ : إِسْنَادُهُ حَسَنٌ ، قُلْتُ : وَرِجَالُ الْبَزَّارِ كُلُّهُمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” مسجد ہر پرہیزگار شخص کا گھر ہے ، اور اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے لئے راحت ، رحمت پر صراط سے گزر کر اللہ تعالی کی رضامندی اور جنت کی طرف جانے کا ذمہ لیا ہے ، جس شخص کا گھر مسجد ہو“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اسے امام بزار نے نقل کیا ہے وہ فرماتے ہیں : اس کی سند حسن ہے میں یہ کہتا ہوں : امام بزار کے تمام رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اسے امام بزار نے نقل کیا ہے وہ فرماتے ہیں : اس کی سند حسن ہے میں یہ کہتا ہوں : امام بزار کے تمام رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 2027
وَعَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ : كَتَبَ سَلْمَانُ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ : يَا أَخِي لِيَكُنِ الْمَسْجِدُ بَيْتَكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الْمَسْجِدُ بَيْتُ كُلِّ تَقِيٍّ وَقَدْ ضَمِنَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لِمَنْ كَانَتِ الْمَسَاجِدُ بُيُوتَهُ الرَّوْحَ وَالرَّحْمَةَ وَالْجَوَازَ عَلَى الصِّرَاطِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ صَالِحٌ الْمُرِّيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوعثمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ اے میرے بھائی ! مسجد تمہارا گھر ہونی چاہیے کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” مسجد ہر پرہیزگار شخص کا گھر ہوتی ہے ، اور مساجد جن لوگوں کا گھر ہوں ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے روح ، رحمت اور پل صراط سے گزرنے کی ضمانت دی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح مری ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح مری ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حدیث نمبر: 2028
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ بُيُوتَ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ الْمَسَاجِدُ ، وَإِنَّ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكْرِمَ الزَّائِرَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَعْقُوبَ الْكِرْمَانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثُ سَلْمَانَ فِي الْمَشْيِ إِلَى الْمَسَاجِدِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک زمین میں اللہ کے گھر مساجد ہیں ، اور اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ وہ آنے والے شخص کی عزت افزائی کرے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن یعقوب کرمانی ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔ میں یہ کہتا ہوں : مساجد کی طرف چل کر جانے کے بارے میں سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث آگے آئے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن یعقوب کرمانی ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔ میں یہ کہتا ہوں : مساجد کی طرف چل کر جانے کے بارے میں سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث آگے آئے گی ۔
حدیث نمبر: 2029
وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : سَمِعْتُ جَدِّي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَدْمَنَ الِاخْتِلَافَ إِلَى الْمَسَاجِدِ أَصَابَ أَخًا مُسْتَفَادًا فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَعِلْمًا مُسْتَظْرَفًا، وَكَلِمَةً تَدْعُوهُ إِلَى الْهُدَى، وَكَلِمَةً تَصْرِفُهُ عَنِ الرَّدَى ، وَتَرَكَ الذُّنُوبَ حَيَاءً وَخَشْيَةً ، أَوْ نِعْمَةً ، أَوْ رَحْمَةً مُنْتَظَرَةً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ سَعْدُ بْنُ طَرِيفٍ الْإِسْكَافُ وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے نانا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص مساجد کی طرف باقاعدگی سے آتا جاتا ہے ، اسے اللہ تعالیٰ کی خاطر ( محبت رکھنے والا ) کوئی بھائی مل جاتا ہے یا ایسا علم مل جاتا ہے ، جو حاصل کیا جائے یا ایسی بات مل جاتی ہے ، جو ہدایت کی طرف رہنمائی کرتی ہے یا ایسا کلمہ مل جاتا ہے ، جو خرابی سے پھیر دیتا ہے ، اور ایسا شخص حیاء کی وجہ سے گناہوں کو ترک کر دیتا ہے یا اسے خشیت ملتی ہے یا نعمت ملتی ہے یا ایسی رحمت ملتی ہے ، جس کا انتظار کیا جاتا ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعد بن طریف اسکاف ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعد بن طریف اسکاف ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔
حدیث نمبر: 2030
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ عُمَّارَ بُيُوتِ اللَّهِ هُمْ أَهْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ صَالِحٌ الْمُرِّيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اللہ کے گھروں کو آباد کرنے والے لوگ ہی اللہ والے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اسے امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح مری ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اسے امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح مری ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حدیث نمبر: 2031
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَلِفَ الْمَسْجِدَ أَلِفَهُ اللَّهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص مسجد سے الفت رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے الفت رکھتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لبیعہ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لبیعہ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2032
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : أَقَمْنَا بِالْمَدِينَةِ سَنَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَقْدِمَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نُقِيمُ الصَّلَاةَ وَنَعْمُرُ الْمَسَاجِدَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمارے پاس تشریف آوری سے پہلے ، ہم مدینہ منورہ میں دو سال تک ایسی حالت میں رہے کہ ہم نماز قائم کرتے تھے ، اور مساجد کو آباد کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2033
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنِ الشَّيْطَانَ ذِئْبُ الْإِنْسَانِ كَذِئْبِ الْغَنَمِ يَأْخُذُ الشَّاةَ الْقَاصِيَةَ وَالنَّاحِيَةَ، فَإِيَّاكُمْ وَالشِّعَابَ ، وَعَلَيْكُمْ بِالْجَمَاعَةِ وَالْعَامَّةِ وَالْمَسْجِدِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” شیطان انسان کے لئے بھیڑیے کی حیثیت رکھتا ہے جیسے بکری کے لئے بھیڑیا خطرناک ہوتا ہے ) وہ دور اور الگ ہونے والی بکری کو پکڑ لیتا ہے ، تو تم لوگ گھاٹیوں میں جانے ( یا مختلف گرہوں میں تقسیم ہونے ) سے بچو ! تم پر جماعت کے ساتھ رہنا عام افراد کے ساتھ رہنا اور مسجد میں رہنا لازم ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے علاء بن زیاد نامی راوی نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے علاء بن زیاد نامی راوی نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2034
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " سِتَّةُ مَجَالِسَ، الْمُؤْمِنُ ضَامِنٌ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى مَا كَانَ فِي شَيْءٍ مِنْهَا : فِي مَسْجِدِ جَمَاعَةٍ ، وَعِنْدَ مَرِيضٍ ، أَوْ فِي جَنَازَةٍ ، أَوْ فِي بَيْتِهِ، أَوْ عِنْدَ إِمَامٍ مُقْسِطٍ يُعَزِّرُهُ وَيُوَقِّرُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” چھ قسم کی مجالس ہیں جن میں مؤمن کے لئے اللہ تعالی کی طرف سے ضمانت ہوتی ہے خواہ وہ ان میں سے کوئی بھی مجلس ہو ، یا جماعت مسجد ، بیمار کے پاس ، یا جنازے میں ، یا اپنے گھر میں ، یا عادل حکمران کے پاس جس کی وہ مؤمن تعظیم و توقیر کرے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔