حدیث نمبر: 1908
عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَجْعَلَنِي إِمَامَ قَوْمِي فَقَالَ : " صَلِّ بِصَلَاةِ أَضْعَفِ الْقَوْمِ ، وَلَا تَتَّخِذْ مُؤَذِّنًا يَأْخُذُ عَلَى أَذَانِهِ أَجْرًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ طَرِيقِ سَعْدٍ الْقُطَعِيِّ عَنْهُ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ مجھے میری قوم کا امام مقرر کر دیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم حاضرین میں سے سب سے کمزور شخص کی نماز کے مطابق نماز ادا کرنا اور کسی ایسے شخص کو مؤذن نہ بنانا جو اذان کا معاوضہ وصول کرتا ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں سعد قطعی کے حوالے سے سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے ، اور میں نے کسی کو اس کا ( دینی سعد قطعی کا ) ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں سعد قطعی کے حوالے سے سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے ، اور میں نے کسی کو اس کا ( دینی سعد قطعی کا ) ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 1909
وَعَنْ يَحْيَى الْبَكَّاءِ قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عُمَرَ : إِنِّي لَأُحِبُّكَ فِي اللَّهِ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : لَكِنِّي أُبْغِضُكَ فِي اللَّهِ ، قَالَ : وَلِمَ ؟ قَالَ : إِنَّكَ تَتَغَنَّى فِي أَذَانِكَ وَتَأْخُذُ عَلَيْهِ أَجْرًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ يَحْيَى الْبَكَّاءُ ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَأَبُو زُرْعَةَ وَأَبُو حَاتِمٍ وَأَبُو دَاوُدَ ، وَوَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ : كَانَ ثِقَةً إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بکاء ، رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: میں اللہ تعالیٰ کی خاطر آپ سے محبت کرتا ہوں تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : میں اللہ تعالیٰ کی خاطر تم سے بغض رکھتا ہوں اس شخص نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اس کی وجہ یہ ہے کہ تم اذان گا کر دیتے ہو اور اس کا معاوضہ وصول کرتے ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بکاء ہے ، جسے امام أحمد امام ابوزرعہ امام ابوحاتم اور امام ابوداؤد نے ضعیف قرار دیا ہے یحیی بن سعید القطان نے اسے ” ثقہ “ کہا: ہے محمد بن سعد کہتے ہیں : اگر اللہ نے چاہا تو یہ ” ثقہ “ ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بکاء ہے ، جسے امام أحمد امام ابوزرعہ امام ابوحاتم اور امام ابوداؤد نے ضعیف قرار دیا ہے یحیی بن سعید القطان نے اسے ” ثقہ “ کہا: ہے محمد بن سعد کہتے ہیں : اگر اللہ نے چاہا تو یہ ” ثقہ “ ہو گا ۔