حدیث نمبر: 1486
عَنْ مَيْمُونَةٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يُتَوَضَّأُ بِفَضْلِ غُسْلِهَا مِنَ الْجَنَابَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے غسل جنابت سے بچائے ہوئے پانی سے وضو نہیں کرتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 1487
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَرْقُدَنَّ جُنُبٌ حَتَّى يَتَوَضَّأَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جنبی شخص اس وقت تک ہرگز نہ سوئے ، جب تک وہ وضو نہیں کر لیتا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 1488
وَلِأَبِي هُرَيْرَةَ عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ فِي الْأَوْسَطِ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا كَانَ جُنُبًا وَأَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَنَامَ تَوَضَّأَ . ¤ وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَرْقَسَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ .
محمد محی الدین
معجم اوسط میں ، امام طبرانی نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب جنبی ہوتے اور کچھ کھانے ، یا سونے کا ارادہ کرتے ، ایک تو آپ وضو کر لیتے تھے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم قرقسانی ہے ، اور اس روایت کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 1489
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَجْنَبَ لَمْ يَطْعَمْ حَتَّى يَتَوَضَّأَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ ہی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب جنابت کی حالت میں ہوتے تھے ، تو اُس وقت تک کچھ نہیں کھاتے تھے ، جب تک وضو نہیں کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 1490
وَلِأُمِّ سَلَمَةَ فِي الْكَبِيرِ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَطْعَمَ غَسَلَ يَدَيْهِ . ¤ وَرِجَالُ الْكَبِيرِ ثِقَاتٌ ، وَرِجَالُ الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ فِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ، وَقَدِ اخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ .
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے معجم کبیر میں یہ روایت منقول ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب جنابت کی حالت میں سونے کا ارادہ کرتے تھے ، تو آپ نماز کے وضو کی طرح وضو کر لیتے تھے ، اور جب کچھ کھانے کا ارادہ کرتے تھے ، تو ہاتھ دھو لیتے تھے ۔
معجم کبیر کے رجال ثقہ ہیں ، معجم اوسط اور معجم صغیر کے رجال میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
معجم کبیر کے رجال ثقہ ہیں ، معجم اوسط اور معجم صغیر کے رجال میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 1491
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا وَاقَعَ بَعْضَ أَهْلِهِ ، فَكَسَلَ أَنْ يَقُومَ - ضَرَبَ يَدَهُ عَلَى الْحَائِطِ فَتَيَمَّمَ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ الْكَلَامُ عَلَيْهِ فِي بَابِ التَّيَمُّمِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی اہلیہ کے ساتھ وظیفہ زوجیت ادا کرتے ، اور پھر آپ کا اُٹھنے کا ارادہ نہ ہوتا ، تو آپ اپنا ہاتھ دیوار پر مار کر تیمم کر لیتے تھے ۔ اس روایت کے بارے میں کلام ، تیمم سے متعلق باب میں گزر چکا ہے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 1492
وَعَنْ مَالِكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْغَافِقِيِّ قَالَ : أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا طَعَامًا ، ثُمَّ قَالَ : " اسْتُرْ عَلَيَّ حَتَّى أَغْتَسِلَ " . فَقُلْتُ : كُنْتَ جُنُبًا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، فَأَخْبَرْتُ بِذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، فَجَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ : إِنَّ هَذَا يَزْعُمُ أَنَّكَ أَكَلْتَ وَأَنْتَ جُنُبٌ ، فَقَالَ : " نَعَمْ ، إِذَا تَوَضَّأْتُ أَكَلْتُ وَشَرِبْتُ ، وَلَا أَقْرَأُ وَلَا أُصَلِّي حَتَّى أَغْتَسِلَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ . وَفِيهِ ضَعْفٌ . وَفِيهِ مَنْ لَا يُعْرَفُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مالک بن عبداللہ غافقی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا کھایا ، پھر آپ نے فرمایا : میرے لئے پردہ کر دو تاکہ میں غسل کر لوں ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ جنابت کی حالت میں تھے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! راوی بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں بتایا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گزارش کی : اس کا یہ کہنا ہے کہ آپ نے جنابت کی حالت میں کھا لیا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! جب میں وضو کر لوں ، تو میں کھا لیتا ہوں ، اور پی لیتا ہوں ، لیکن میں قرأت اُس وقت تک نہیں کرتا ، اور نماز اُس وقت تک نہیں پڑھتا ، جب تک میں غسل نہ کر لوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس میں ضعف پایا جاتا ہے اور اس میں ایک راوی ایسا ہے ، جو معروف نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس میں ضعف پایا جاتا ہے اور اس میں ایک راوی ایسا ہے ، جو معروف نہیں ہے ۔
حدیث نمبر: 1493
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ الْغَافِقِيِّ قَالَ : أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا طَعَامًا ، ثُمَّ قَالَ : " اسْتُرْ عَلَيَّ حَتَّى أَغْتَسِلَ " ، فَقُلْتُ لَهُ : أَكُنْتَ جُنُبًا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، وَأَخْبَرْتُ بِذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنَّ هَذَا يَزْعُمُ أَنَّكَ أَكَلْتَ وَأَنْتَ جُنُبٌ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، إِذَا تَوَضَّأْتُ أَكَلْتُ وَشَرِبْتُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مالک غافقی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا کھایا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے لئے پردہ کر دو ، تاکہ میں غسل کر لوں ، میں نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ جنبی تھے ؟ آپ نے فرمایا : جی ہاں ! میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں بتایا ، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بولے : اس کا یہ کہنا ہے کہ آپ نے جنابت کی حالت میں کھا لیا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! جب میں وضو کر لوں ، تو میں کھا لیتا ہوں اور پی لیتا ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں بھی ابن لہیعہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں بھی ابن لہیعہ ہے ۔
حدیث نمبر: 1494
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَالِكٍ التُّنُوسِيُّ ، تَرْجَمَ لَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ فِي كِتَابِهِ ، وَقَالَ : إِنَّهُ صَدُوقٌ . وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مالک غافقی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا کھایا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے لئے پردہ کر دو ، تاکہ میں غسل کر لوں ، میں نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ جنبی تھے ؟ آپ نے فرمایا : جی ہاں ! میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں بتایا ، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بولے : اس کا یہ کہنا ہے کہ آپ نے جنابت کی حالت میں کھا لیا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! جب میں وضو کر لوں ، تو میں کھا لیتا ہوں اور پی لیتا ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں بھی ابن لہیعہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں بھی ابن لہیعہ ہے ۔
حدیث نمبر: 1495
وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْجُنُبِ ، أَيَنَامُ ؟ قَالَ : " يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَسُفْيَانُ ، وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ ، وَلَمْ يُنْسَبْ إِلَيْهِ كَذِبٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنبی شخص کے بارے میں دریافت کیا : کہ کیا وہ ( غسل کیے بغیر ) سو سکتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ نماز کے وضو کی طرح وضو کر لے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور سفیان نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور دیگر لوگوں نے اُسے ”ضعیف“ قرار دیا ہے ، تاہم اُس کی طرف جھوٹ کی نسبت نہیں کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور سفیان نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور دیگر لوگوں نے اُسے ”ضعیف“ قرار دیا ہے ، تاہم اُس کی طرف جھوٹ کی نسبت نہیں کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 1496
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَخَّصَ لِلْجُنُبِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَنَامَ أَنْ يَتَوَضَّأَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ ، قَالَ فِيهِ ابْنُ مَعِينٍ : كَذَّابٌ ، خَبِيثٌ ، عَدُوُّ اللَّهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنبی شخص کو یہ رخصت دی ہے ، کہ جب کچھ کھانے لگے ، یا سونے لگے ، تو وضو کر لے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ، جس کے بارے میں یحیی بن معین نے یہ کہا: ہے : یہ کذاب ، خبیث اور اللہ کا دشمن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ، جس کے بارے میں یحیی بن معین نے یہ کہا: ہے : یہ کذاب ، خبیث اور اللہ کا دشمن ہے ۔
حدیث نمبر: 1497
وَبِسَنَدِهِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَحْضُرُ الْجُنُبَ وَلَا الْمُتَضَمِّخَ حَتَّى يَغْتَسِلَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْكَلَامُ الَّذِي قَبْلَهُ . ¤
محمد محی الدین
اسی سند کے ساتھ ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ہی کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک فرشتے جنبی شخص ، اور ( ممنوع ) خوشبو لگانے والے کے پاس نہیں آتے ، جب تک وہ دونوں غسل نہیں کر لیتے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے بارے میں بھی وہی کلام کیا جائے گا ، جو اس سے پہلی روایت کے بارے میں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے بارے میں بھی وہی کلام کیا جائے گا ، جو اس سے پہلی روایت کے بارے میں ہے ۔
حدیث نمبر: 1498
وَعَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ يَأْكُلُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ ؟ قَالَ : " لَا يَأْكُلُ حَتَّى يَتَوَضَّأَ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ يَرْقُدُ الْجُنُبُ ؟ قَالَ : " مَا أُحِبُّ أَنْ يَرْقُدَ وَهُوَ جُنُبٌ حَتَّى يَتَوَضَّأَ ; فَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يُتَوَفَّى ، فَلَا يَحْضُرُهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ يَزِيدَ ، وَعُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ الْحَرَّانِيُّ الطَّرَائِقِيُّ ، وَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ : صَدُوقٌ ، وَقَالَ أَبُو عَرُوبَةَ الْحَرَّانِيُّ وَابْنُ عَدِيٍّ : لَا بَأْسَ بِهِ ، يَرْوِي عَنْ مَجْهُولِينَ ، وَقَالَ الْبُخَارِيُّ وَأَبُو أَحْمَدَ الْحَاكِمُ : يَرْوِي عَنْ قَوْمٍ ضِعَافٍ ، وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ : يُشْبِهُ بَقِيَّةَ فِي رِوَايَتِهِ عَنِ الضُّعَفَاءِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم میں سے کوئی ایک جنابت کی حالت میں کچھ کھا سکتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ اُس وقت تک کچھ نہ کھائے ، جب تک وضو نہیں کر لیتا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا جنبی شخص سو سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ وہ جنابت کی حالت میں سو جائے ، جب تک وہ وضو نہیں کر لیتا ، کیونکہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ اگر وہ ایسی حالت میں انتقال کر گیا ، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام اس کے پاس نہیں آئیں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے عثمان بن عبدالرحمن نے عبدالحمید بن یزید سے روایت کیا ہے ، اور عثمان بن عبدالرحمن نامی راوی ، حرانی ، طرائقی ہے ، جسے یحیی بن معین نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، ابوحاتم کہتے ہیں : یہ صدوق ہے ، ابوعروبہ حرانی اور ابن عدی کہتے ہیں : اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، اس نے مجبول لوگوں سے روایت نقل کی ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ اور ابو أحمد حاکم کہتے ہیں : اس نے ضعیف لوگوں سے روایات نقل کی ہیں ، ابوحاتم بیان کرتے ہیں : ضعیف لوگوں سے روایت نقل کرنے میں یہ بقیہ کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے عثمان بن عبدالرحمن نے عبدالحمید بن یزید سے روایت کیا ہے ، اور عثمان بن عبدالرحمن نامی راوی ، حرانی ، طرائقی ہے ، جسے یحیی بن معین نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، ابوحاتم کہتے ہیں : یہ صدوق ہے ، ابوعروبہ حرانی اور ابن عدی کہتے ہیں : اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، اس نے مجبول لوگوں سے روایت نقل کی ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ اور ابو أحمد حاکم کہتے ہیں : اس نے ضعیف لوگوں سے روایات نقل کی ہیں ، ابوحاتم بیان کرتے ہیں : ضعیف لوگوں سے روایت نقل کرنے میں یہ بقیہ کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے ۔