حدیث نمبر: 1235
عَنْ مُعَيْقِيبٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ ، وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَضْعِيفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معیقیب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” ( بعض ) ایڑیوں کے لئے جہنم کی بربادی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن عتبہ ہے ، اکثر حضرات نے اُسے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن عتبہ ہے ، اکثر حضرات نے اُسے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 1236
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيَّ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ وَبُطُونِ الْأَقْدَامِ مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ هَكَذَا . ¤ وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ : عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ وَبُطُونِ الْأَقْدَامِ مِنَ النَّارِ " . ¤ وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَالطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عقبہ بن مسلم بیان کرتے ہیں : میں نے ، سیدنا عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ کو ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں ، انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا : ” ( بعض ) ایڑیوں اور پاؤں کے تلووں کے لیے ، جہنم کی بربادی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اسی طرح نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کو یوں نقل کیا ہے : سیدنا عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ( بعض ) ایڑیوں اور پاؤں کے تلووں کے لیے جہنم کی بربادی ہے “ ۔ امام أحمد اور امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اسی طرح نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کو یوں نقل کیا ہے : سیدنا عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ( بعض ) ایڑیوں اور پاؤں کے تلووں کے لیے جہنم کی بربادی ہے “ ۔ امام أحمد اور امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 1237
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ وَأَخِيهِ قَالَا : أَبْصَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَوْمًا يَتَوَضَّئُونَ ، فَقَالَ : " وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ طُرُقٍ ; فَفِي بَعْضِهَا عَنْ أَبِي أُمَامَةَ وَأَخِيهِ ، وَفِي بَعْضِهَا عَنْ أَبِي أُمَامَةَ فَقَطْ ، وَفِي بَعْضِهَا عَنْ أَخِيهِ فَقَطْ ، وَفِي بَعْضِهَا قَالَ : رَأَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَوْمًا يَتَوَضَّئُونَ ، فَبَقِيَ عَلَى أَقْدَامِهِمْ قَدْرُ الدِّرْهَمِ ، فَقَالَ : " وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ " . ¤ وَمَدَارُ طُرُقِهِ كُلِّهَا عَلَى لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ اور اُن کے بھائی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ، تو ارشاد فرمایا : ( بعض ) ایڑیوں کے لیے جہنم کی بربادی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں مختلف طرق کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے بعض میں یہ مذکور ہے : یہ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائی سے منقول ہے ، بعض میں یہ مذکور ہے : یہ صرف سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، بعض میں یہ مذکور ہے : یہ صرف سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے بھائی سے منقول ہے اور بعض میں یہ مذکور ہے : وہ بیان کرتے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ، جن کے پاؤں پر ایک درہم جتنی جگہ باقی رہ گئی تھی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( بعض ) ایڑیوں کے لیے جہنم کی بربادی ہے “ ۔ ان تمام طرق کا مدار لیث بن ابوسلیم نامی راوی پر ہے ، اور وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں مختلف طرق کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے بعض میں یہ مذکور ہے : یہ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائی سے منقول ہے ، بعض میں یہ مذکور ہے : یہ صرف سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، بعض میں یہ مذکور ہے : یہ صرف سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے بھائی سے منقول ہے اور بعض میں یہ مذکور ہے : وہ بیان کرتے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ، جن کے پاؤں پر ایک درہم جتنی جگہ باقی رہ گئی تھی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( بعض ) ایڑیوں کے لیے جہنم کی بربادی ہے “ ۔ ان تمام طرق کا مدار لیث بن ابوسلیم نامی راوی پر ہے ، اور وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
حدیث نمبر: 1238
وَعَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْهَيْثَمِ قَالَ : رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَوَضَّأُ ، فَقَالَ : " بَطْنُ الْقَدَمِ يَا أَبَا الْهَيْثَمِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَبَكْرُ بْنُ سَوَادَةَ مَا أَظُنُّهُ سَمِعَ أَبَا الْهَيْثَمِ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
بکر بن سوادہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا ابوالہیثم رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا : وہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وضو کرتے ہوئے دیکھا تو ارشاد فرمایا : اے ابوالہیثم ! پاؤں کے تلوے کا دھیان رکھنا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ، بکر بن سوادہ کے بارے میں میرا یہ گمان ہے کہ انہوں نے سیدنا ابوالہیثم رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ، بکر بن سوادہ کے بارے میں میرا یہ گمان ہے کہ انہوں نے سیدنا ابوالہیثم رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ۔
حدیث نمبر: 1239
وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ رَجُلٌ قَدْ تَوَضَّأَ وَفِي قَدَمِهِ مَوْضِعٌ لَمْ يُصِبْهُ الْمَاءُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اذْهَبْ فَأَتِمَّ وُضُوءَكَ " فَفَعَلَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ ، وَفِيهِ الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ ، وَهُوَ مَجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، ایک شخص آیا ، جس نے وضو کیا تھا اور اُس کے پاؤں میں ایک جگہ پر پانی نہیں پہنچا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم جاؤ اور اپنا وضو مکمل کرو ! تو اُس شخص نے ایسا ہی کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی وازع بن نافع ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی وازع بن نافع ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔
حدیث نمبر: 1240
وَعَنْ أَبِي رُوحٍ الْكَلَاعِيِّ قَالَ : صَلَّى بِنَا نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةً فَقَرَأَ فِيهَا سُورَةَ الرُّومِ ، فَلُبِّسَ بَعْضُهَا فَقَالَ : " إِنَّمَا لَبَّسَ عَلَيْنَا الشَّيْطَانُ الْقِرَاءَةَ مِنْ أَجْلِ أَقْوَامٍ يَأْتُونَ الصَّلَاةَ بِغَيْرِ وُضُوءٍ ، فَإِذَا أَتَيْتُمِ الصَّلَاةَ فَأَحْسِنُوا الْوُضُوءَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ أَبِي رَوْحٍ نَفْسِهِ ، وَرَوَاهُ النَّسَائِيُّ عَنْ أَبِي رَوْحٍ عَنْ رَجُلٍ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوروح کلاعی بیان کرتے ہیں : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک نماز پڑھاتے ہوئے ، اُس میں سورہ روم کی تلاوت کی ، اس میں کسی جگہ آپ کو مشابہ لگ گیا ( تو نماز سے فارغ ہونے کے بعد ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : شیطان ہمارے لیے قرأت میں الجھن کر دیتا ہے ، اس کی وجہ کچھ لوگ ہیں ، جو ( صحیح طرح سے مکمل ) وضو کے بغیر نماز کے لئے آ جاتے ہیں ، جب تم نماز کے لیے آؤ ، تو اچھی طرح وضو کرو ۔
یہ روایت امام أحمد نے سیدنا ابوروح رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے اور امام نسائی رحمہ اللہ نے اسے ابوروح کے حوالے سے ، ایک شخص سے نقل کیا ہے ، امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے سیدنا ابوروح رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے اور امام نسائی رحمہ اللہ نے اسے ابوروح کے حوالے سے ، ایک شخص سے نقل کیا ہے ، امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 1241
وَعَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ : سَمِعْتُ شَبِيبًا أَبَا رَوْحٍ مِنْ ذِي الْكَلَاعِ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَرَأَ بِالرُّومِ ، فَتَرَدَّدَ فِي آيَةٍ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : " إِنَّهُ لُبِّسَ عَلَيْنَا الْقُرْآنُ . إِنَّ أَقْوَامًا مِنْكُمْ يُصَلُّونَ مَعَنَا لَا يُحْسِنُونَ الْوُضُوءَ ، فَمَنْ شَهِدَ الصَّلَاةَ مَعَنَا فَلْيُحْسِنِ الْوُضُوءَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عبدالملک بن عمیر بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا شبیب ابوروح رضی اللہ عنہ جن کا تعلق ذی کلاع سے ہے ، انہیں یہ بیان کرتے ہوئے سنا : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کر رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ روم کی تلاوت شروع کی ، آپ کو ایک آیت میں تردد ہوا ، جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے ، تو آپ نے فرمایا : ہمیں قرآن میں مشابہ لگ جاتا ہے ، کیونکہ ہمارے ساتھ تم میں سے کچھ ایسے لوگ نماز ادا کرتے ہیں ، جو اچھی طرح وضو نہیں کرتے ہیں ، جو شخص ہمارے ساتھ نماز میں شریک ہو اسے اچھی طرح وضو کرنا چاہیے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔