کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان کا بیان ” تمہارے دین میں سب سے بہتر وہ ہے جو سب سے زیادہ آسان ہو اور اس کی مانند (دیگر فرامین کا تذکرہ)
حدیث نمبر: 213
عَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَسِّرُّوا وَلَا تُعَسِّرُوا ، وَسَكِّنُوا وَلَا تُنَفِّرُوا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” آسانی فراہم کرو ! تنگی میں مبتلا نہ کرو ، تسکین فراہم کرو ، متنفر نہ کرو ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 214
وَعَنِ الْأَعْرَابِيِّ الَّذِي سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " خَيْرُ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک دیہاتی کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تمہارے دین میں سب سے بہتر وہ ہے ، جو سب سے زیادہ آسان ہو “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 215
وَعَنْ عُرْوَةَ الْفُقَيْمِيِّ قَالَ : كُنَّا نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَرَجَ رَجُلٌ يَقْطُرُ رَأْسُهُ مِنْ وُضُوءٍ أَوْ غُسْلٍ ، فَصَلَّى ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ جَعَلَ النَّاسُ يَسْأَلُونَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَعَلَيْنَا حَرَجٌ فِي كَذَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ دِينَ اللَّهِ فِي يُسْرٍ " - ثَلَاثًا يَقُولُهَا - وَقَالَ يَزِيدُ مَرَّةً : جَعَلَ النَّاسُ يَقُولُونَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا تَقُولُ فِي كَذَا ؟ مَا تَقُولُ فِي كَذَا ؟ مَا تَقُولُ فِي كَذَا ؟ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ هِلَالٍ ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَأَبُو دَاوُدَ ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ ، وَغَاضِرَةُ لَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ عَاصِمٍ هَذَا - هَكَذَا ذَكَرَهُ الْمِزِّيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عروہ فقیمی بیان کرتے ہیں : ہم لوگ اللہ کے رسول کا انتظار کر رہے تھے ( یعنی ہم نے انہیں پہلے نہیں دیکھا تھا ) ایک صاحب تشریف لائے ، جن کے سر سے وضو ، یا شاید غسل کی وجہ سے ، پانی کے قطرے چمک رہے تھے ، انہوں نے نماز پڑھانی شروع کی ، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے ، تو لوگوں نے اُن سے سوال کرتے ہوئے کہا: اے اللہ کے رسول ! کیا اس صورت میں ہم پر کوئی گناہ ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! اللہ کا دین آسانی میں ہے ، یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، ( یہاں یزید نامی راوی نے ایک مرتبہ یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ) لوگوں نے یہ کہنا شروع کیا : اے اللہ کے رسول ! افلاں صورت کے بارے میں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کہتے ہیں ؟ فلاں صورت کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کہتے ہیں ؟ فلاں صورت کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کہتے ہیں ؟
یہ روایت امام أحمد نے ، امام طبرانی نے معجم کبیر میں ، اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ہلال ہے ، جسے ابوحاتم اور امام ابوداؤد نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، حاضرہ نامی راوی سے عاصم نامی اس راوی کے علاوہ ، اور کسی نے روایت نقل نہیں کی ہے ، امام مزی نے اسی طرح اُس کا ذکر کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، امام طبرانی نے معجم کبیر میں ، اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ہلال ہے ، جسے ابوحاتم اور امام ابوداؤد نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، حاضرہ نامی راوی سے عاصم نامی اس راوی کے علاوہ ، اور کسی نے روایت نقل نہیں کی ہے ، امام مزی نے اسی طرح اُس کا ذکر کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 216
وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ هَذَا الدِّينَ مَتِينٌ ، فَأَوْغِلُوا فِيهِ بِرِفْقٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ ، إِلَّا أَنَّ خَلَفَ بْنَ مِهْرَانَ لَمْ يُدْرِكْ أَنَسًا . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” یہ دین مضبوط ہے ، تو تم لوگ اس میں نرمی کے ساتھ رہو “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، البتہ یہ ہے کہ خلف بن مہران نامی راوی نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، البتہ یہ ہے کہ خلف بن مہران نامی راوی نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حدیث نمبر: 217
وَعَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ هَذَا الدِّينَ مَتِينٌ ، فَأَوْغِلْ فِيهِ بِرِفْقٍ ، فَإِنَّ الْمُنْبَتَّ لَا أَرْضًا قَطَعَ ، وَلَا ظَهْرًا أَبْقَى " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ أَبُو عَقِيلٍ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” یہ دین مضبوط ہے ، تو تم لوگ اس میں نرمی کے ساتھ رہو ! کیونکہ جو شخص تیزی سے سفر کرتا ہے نہ تو زمین پار کرتا ہے ، اور نہ ہی ( جانور پر ) گوشت کو باقی رہنے دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحییٰ بن متوکل ابوعقیل ہے اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحییٰ بن متوکل ابوعقیل ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حدیث نمبر: 218
وَعَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : خَرَجْتُ ذَاتَ يَوْمٍ لِحَاجَةٍ ، وَإِذَا أَنَا بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَمْشِي بَيْنَ يَدَيَّ ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَانْطَلَقْنَا نَمْشِي جَمِيعًا ، فَإِذَا نَحْنُ بَيْنَ أَيْدِينَا بِرَجُلٍ يُصَلِّي يُكْثِرُ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَتَرَاهُ يُرَائِي ؟ " فَقُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، فَتَرَكَ يَدَهُ مِنْ يَدِي ، ثُمَّ جَمَعَ يَدَيْهِ فَجَعَلَ يُصَوِّبُهُمَا وَيَرْفَعُهُمَا ، وَيَقُولُ : " عَلَيْكُمْ هَدْيًا قَاصِدًا ، عَلَيْكُمْ هَدْيًا قَاصِدًا ، عَلَيْكُمْ هَدْيًا قَاصِدًا ، فَإِنَّهُ مَنْ يُشَادَّ هَذَا الدِّينَ يَغْلِبْهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن میں کسی کام کے سلسلے میں باہر نکلا ، تو میں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے آگے جا رہے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور ہم ایک ساتھ چلنے لگے ، ہمیں اپنے سامنے ایک شخص نظر آیا ، جو نماز ادا کر رہا تھا اور بکثرت رکوع و سجود کر رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا اس شخص کے بارے میں ، تم یہ سمجھتے ہو ؟ کہ یہ دکھاوا کر رہا ہے ؟ میں نے عرض کی : اللہ اور اُس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑا کر اپنے دونوں ہاتھ ملا لئے ، انہیں نیچے کیا ، پھر انہیں بلند کیا اور پھر ارشاد فرمایا : ” تم پر میانہ روی کا طریقہ اختیار کرنا لازم ہے ، تم پر میانہ روی کا طریقہ اختیار کرنا لازم ہے ، تم پر میانہ روی کا طریقہ اختیار کرنا لازم ہے ، کیونکہ جو شخص اس دین کے بارے میں سختی سے کام لے گا ، یہ دین اس پر غالب آ جائے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 219
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْإِسْلَامُ ذَلُولٌ ، لَا يَرْكَبُ إِلَّا ذَلُولًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِي إِسْنَادِهِ أَبُو خَلَفٍ الْأَعْمَى ، مُنْكَرُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اسلام آسان ہے اور اس پر صرف آسان شخص ہی سوار ہو سکتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوخلف نابینا ہے اور وہ منکرالحدیث ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوخلف نابینا ہے اور وہ منکرالحدیث ہے ۔
حدیث نمبر: 220
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تُشَدِّدُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِتَشْدِيدِهِمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ ، وَسَتَجِدُونَ بَقَايَاهُمْ فِي الصَّوَامِعِ وَالدِّيَارَاتِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ ، وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ ، وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اپنی ذات کے حوالے سے شدت اختیار نہ کرو ! کیونکہ تم سے پہلے کے لوگ ، اپنی ذات کے حوالے سے شدت اختیار کرنے کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہو گئے اور اُن لوگوں کے بقایا جات کو تم گرجا گھروں اور مندروں میں پاؤ گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جو لیث بن سعد کا کاتب ہے ، ایک جماعت نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور دوسرے لوگوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جو لیث بن سعد کا کاتب ہے ، ایک جماعت نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور دوسرے لوگوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 221
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ ، فَإِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ قَدْ غَلَا كَثِيرٌ مِنْهُمْ ، حَتَّى كَانَتِ الْمَرْأَةُ الْقَصِيرَةُ تَتَّخِذُ خُقَّيْنِ مِنْ خَشَبٍ فَتَحْشُوهُمَا ، ثُمَّ تُولِجُ فِيهِمَا رِجْلَيْهَا ، ثُمَّ تَقُومُ إِلَى جَنْبِ الْمَرْأَةِ الطَّوِيلَةِ فَتَمْشِي مَعَهَا ، فَإِذَا هِيَ قَدْ تَسَاوَتْ بِهَا ، وَكَانَتْ أَطْوَلَ مِنْهَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ . قَالَ ابْنُ مَعِينٍ : كَذَّابٌ خَبِيثٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم لوگ غلو سے بچو ! کیونکہ بنی اسرائیل میں سے بہت سے لوگوں نے غلو اختیار کیا ، یہاں تک کہ ایک چھوٹے قد کی عورت نے لکڑی کے جوتے بنوائے ، اور ان میں پاؤں داخل کیے ، پھر وہ ایک طویل القامت عورت کے ساتھ کھڑی ہوئی اور اس کے ساتھ چلنے لگی ، تو وہ اس کے برابر کے قد کی ، یا اس سے طویل محسوس ہوتی تھی “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ، یحییٰ بن معین کہتے ہیں : یہ کذب اور خبیث ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ، یحییٰ بن معین کہتے ہیں : یہ کذب اور خبیث ہے ۔
حدیث نمبر: 222
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سَدِّدُوا وَأَبْشِرُوا ، فَإِنَّ اللَّهَ - تَعَالَى - لَيْسَ إِلَى عَذَابِكُمْ بِسَرِيعٍ ، وَسَيَأْتِي قَوْمٌ لَا حُجَّةَ لَهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ بَقِيَّةٌ ، وَلَكِنَّهُ صَرَّحَ بِالتَّحْدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” میانہ روی اختیار کرو ! اور یہ خوش خبری حاصل کرو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے عذاب کی طرف جلدی کرنے والا نہیں ہے اور عنقریب ایسی قوم آئے گی ، جن کے پاس کوئی حجت نہیں ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے ، لیکن اُس نے ( اس روایت میں ) تحدیث کی صراحت کی ہے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے ، لیکن اُس نے ( اس روایت میں ) تحدیث کی صراحت کی ہے