حدیث نمبر: 9768
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ وَهْبٍ الْخَوْلَانِيِّ ، قَالَ : لَمَّا افْتَتَحْنَا ، [ بِغَيْرِ عَهْدٍ ] مِصْرَ قَامَ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ ، فَقَالَ : يَا عَمْرُو بْنَ الْعَاصِ ، اقْسِمْهَا . فَقَالَ عَمْرٌو : لَا أُقْسِمُهُمَا . فَقَالَ الزُّبَيْرُ : وَاللَّهِ لَتَقْسِمَنَّهَا ، كَمَا قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْبَرَ ، قَالَ عَمْرٌو : وَاللَّهِ لَا أُقْسِمُهَا حَتَّى أَكْتُبَ إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ ، وَكَتَبَ إِلَى عُمَرَ ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ : أَنْ أَقِرَّهَا حَتَّى يَغْزُوَ مِنْهَا حَبَلُ الْحَبَلَةِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ ، وَابْنُ لَهِيعَةَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سفیان بن وہب خولانی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب ہم نے کسی معاہدے کے بغیر مصر کو فتح کر لیا ، تو سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور بولے : اے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ آپ اسے ( یعنی یہاں کی زمین کو مجاہدین میں ) تقسیم کر دیں ، تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اسے تقسیم نہیں کروں گا سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! آپ اسے ضرور تقسیم کریں گے ، جس طرح اللہ کے رسول نے خبیر ( کی زمین ) کو تقسیم کیا تھا ۔ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! میں اسے اس وقت تک تقسیم نہیں کروں گا جب تک ( اس کے بارے میں ) امیر المؤمنین کو لکھ نہیں دیتا پھر انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں جوابی خط میں لکھا کہ تم اسے یوں ہی رہنے دو ، یہاں تک کہ آئندہ نسلیں اس بارے میں لڑائی کریں گی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اور ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9768
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (1424)»