حدیث نمبر: 9637
عَنْ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ عَيْنًا وَحْدَهُ إِلَى قُرَيْشٍ ، وَقَالَ : فَجِئْتُ إِلَى خَشَبَةِ خُبَيْبٍ وَأَنَا أَتَخَوَّفُ الْعُيُونَ ، فَرَقِيتُ فِيهَا فَحَلَلْتُ خُبَيْبًا فَوَقَعَ إِلَى الْأَرْضِ ، فَانْتَبَذْتُ غَيْرَ بَعِيدٍ ، ثُمَّ الْتَفَتُّ فَلَمْ أَرَ خُبَيْبًا ، وَلَكَأَنَّمَا ابْتَلَعَتْهُ الْأَرْضُ فَلَمْ يُرَ لِخُبَيْبٍ أَثَرٌ حَتَّى السَّاعَةِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَمِّعٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اکیلے جاسوس کو قریش کی طرف بھیجا ۔ راوی کہتے ہیں : میں خبیب کی لکڑی کے پاس آیا مجھے جاسوسوں کا بھی اندیشہ تھا میں اس پر چڑھ گیا اور میں نے خبیب کو کھول دیا ، تو وہ زمین پر گرا پڑا میں تھوڑی دور تک گیا پھر میں نے مڑ کر دیکھا تو مجھے خبیب نظر نہیں آیا یوں لگتا تھا جیسے اسے زمین نگل گئی ہے اس کے بعد اب تک خبیب کا کوئی نشان دکھائی نہیں دیا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسماعیل بن مجمع ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9637
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (856 و 4189) اخرجه احمد فى المسند (139/4)»