مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ رُبَّ قَتِيلٍ بَيْنَ الصَّفَّيْنِ اللَّهُ أَعْلَمُ بِنِيَّتِهِ باب: دو صفوں کے درماین قتل ہونے والے کی نیت کے بارے میں اللہ بہتر جانتا ہے
عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ أَنَّ أَبَا مُحَمَّدٍ أَخْبَرَهُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدَّثَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ أَكْثَرَ شُهَدَاءِ أُمَّتِي لَأَصْحَابُ الْفُرُشِ ، رُبَّ قَتِيلٍ بَيْنَ الصَّفَّيْنِ اللَّهُ أَعْلَمُ بِنِيَّتِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ هَكَذَا ، وَلَمْ أَرَهُ ذَكَرَ ابْنَ مَسْعُودٍ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ مُرْسَلٌ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤ابراہیم بن عبید بن رفاعہ بیان کرتے ہیں : ابومحمد نے انہیں یہ بات بتائی ہے ، جو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگردوں میں سے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے : ” میری امت کے زیادہ تر شہداء بستر پر مرنے والے ہوں گے اور دو صفوں کے درمیان قتل ہونے والے کسی فرد کی نیت کے بارے میں اللہ بہتر جانتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اسی طرح نقل کی ہے میں نے انہیں اس میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے بظاہر یہ لگتا ہے یہ روایت ” مرسل “ ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔