حدیث نمبر: 9537
عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ سَأَلَ اللَّهَ الْقَتْلَ فِي سَبِيلِهِ صَادِقًا عَنْ نَفْسِهِ ثُمَّ مَاتَ أَوْ قُتِلَ فَلَهُ أَجْرُ شَهِيدٍ ، وَمَنْ جُرِحَ جُرْحًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ نُكِبَ نَكْبَةً فَإِنَّهَا تَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَغْزَرِ مَا كَانَتْ ، لَوْنُهَا كَالزَّعْفَرَانِ وَرِيحُهَا رِيحُ الْمِسْكِ ، وَمَنْ جُرِحَ بِهِ جِرَاحٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَانَ عَلَيْهِ طَابَعُ الشُّهَدَاءِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ يُوسُفَ الرَّحْبِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ جُمْهُورُ الْأَئِمَّةِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص اللہ تعالیٰ سے اس کی راہ میں قتل ہونے کی سچے دل سے دعا کرتا ہے اور پھر وہ ( طبعی موت ) مر جاتا ہے یا قتل ہوتا ہے ، تو اسے شہید کا اجر ملتا ہے اور جس شخص کو اللہ کی راہ میں زخم لگتا ہے ، یا تکلیف لاحق ہوتی ہے ، تو جب وہ قیامت کے دن آئے گا ، تو وہ زخم پہلے سے بڑا ہو گا ، جس کا رنگ زعفران کی مانند ہو گا ، اور اس کی خوشبو مشک کی خوشبو کی مانند ہو گی اور جس شخص کو اللہ کی راہ میں کوئی زخم لگتا ہے ، تو اس پر شہداء کی مہر لگا دی جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن یوسف رحبی ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے جمہور ائمہ نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9537
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3465)»