مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ كَيْفَ يَعْرِفُ الْفَرَسَ الْعَتِيقَ مِنْ غَيْرِهِ باب: آدمی عتیق گھوڑے کو دوسرے کے مقابلے میں کیسے پہچانے گا ؟
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ : حَدَّثَنِي بَعْضُ أَصْحَابِنَا قَالَ : عَرَضَ سَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ الْخَيْلَ ، فَمَرَّ عَمْرُو بْنُ مَعْدِ يكَرِبَ عَلَى فَرَسٍ لَهُ ، فَقَالَ لَهُ سَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ : هَذَا هَجِينٌ . فَقَالَ لَهُ عَمْرٌو : عَتِيقٌ، فَأَمَرَ بِهِ فَعُطِّشَ ، ثُمَّ جَاءَ بِطَسْتٍ مِنْ مَاءٍ وَدَعَا بِعِتَاقِ الْخَيْلِ فَشَرِبَتْ فَجَاءَ فَرَسُ عَمْرٍو فَثَنَى يَدَيْهِ وَشَرِبَ وَهَذَا صُنْعُ الْهَجِينِ ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَقَالَ لَهُ : أَلَا تَرَى ؟ فَقَالَ لَهُ : أَجَلِ الْهَجِينُ يَعْرِفُ الْهَجِينَ، فَبَلَغَ عُمَرَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ : قَدْ بَلَغَنِي مَا قُلْتَ لِأَمِيرِكَ ، وَبَلَغَنِي أَنَّ لَكَ سَيْفًا تُسَمِّيهِ الصَّمْصَامَةَ وَعِنْدِي سَيْفٌ مُصَمَّمٌ وَتَاللَّهِ لَئِنْ وَضَعْتُهُ عَلَى هَامَتِكَ لَا أُقْلِعُ حَتَّى أَبْلُغَ شَيْئًا ذَكَرَهُ مِنْ جَوْفِهِ، فَإِنْ سَرَّكَ أَنْ تَعْلَمَ أَحَقٌّ مَا أَقُولُ فَعَلْتُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ . ¤محمد بن سلام بیان کرتے ہیں : میرے بعض ساتھیوں نے مجھے یہ بات بیان کی ہے : ایک مرتبہ سلمان بن ربیعہ نے ایک گھوڑا پیش کیا ، عمرو بن معدیکرب اپنے گھوڑے پر سوار وہاں سے گزرے ، تو سلمان بن ربیعہ نے ان سے کہا: یہ حجین ہے ۔ عمرو نے ان سے کہا: یہ عقیق ہے ، ان کے حکم کے تحت اسے پیاسا رکھا گیا پھر پانی کا طشت لایا گیا ، پھر انہوں نے عتیق گھوڑا منگوایا ، تو اس گھوڑے نے پی لیا پھر عمرو کا گھوڑا آیا ، اس نے دونوں پاؤں موڑے اور پھر پیا ، تو یہ حجین کا طریقہ تھا ۔ انہوں نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا : کیا تم نے دیکھا نہیں ؟ انہوں نے ان سے کہا: جی ہاں ! حجین ہی حجین کو پہچانتا ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس بات کی اطلاع ملی تو انہوں نے اسے خط لکھا کہ مجھے یہ پتہ چلا ہے کہ تم نے اپنے امیر کو یہ بات کہی ہے اور مجھے یہ بات پتہ چلی ہے کہ تمہاری ایک تلوار ہے ، جس کا نام تم نے ” صمصامہ “ رکھا ہوا ہے میرے پاس بھی ایک ” عصمصم “ تلوار ہے ۔ اللہ کی قسم ! اگر میں وہ تمہارے سر پر مار دوں ، تو وہ تمہیں کاٹتی ہوئی پیٹ تک پہنچ جائے گی ، اگر تمہیں یہ بات پسند ہو کہ جو میں نے کہا: ہے ، وہ ٹھیک ہے ، تو میں ایسا کر لیتا ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔