حدیث نمبر: 9350
عَنْ جُعَيْلٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ : غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَعْضِ غَزَوَاتِهِ، وَأَنَا عَلَى فَرَسٍ لِي عَجْفَاءَ ضَعِيفَةٍ ، فَكُنْتُ فِي آخِرِ النَّاسِ فَلَحِقَنِي فَقَالَ : " سِرْ يَا صَاحِبَ الْفَرَسِ " . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ عَجْفَاءُ ضَعِيفَةٌ . فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِخْفَقَةً كَانَتْ مَعَهُ فَضَرَبَهَا بِهَا وَقَالَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُ فِيهَا " . قَالَ : فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي مَا أُمْسِكُ رَأْسَهَا ، أَتَقَدَّمُ النَّاسَ قَالَ : وَلَقَدْ بِعْتُ مِنْ بَطْنِهَا بِاثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جعیل اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں حصہ لیا میں اپنی کمزور اور نحیف گھوڑی پر سوار تھا ، اور لوگوں میں سب سے پیچھے تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے آ کے ملے اور فرمایا : اے گھوڑے والے فرد ! تم چلو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ نحیف اور کمزور ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس موجود چھڑی کو اٹھایا اور اسے اس گھوڑی کو مارا اور فرمایا : اے اللہ ! اس شخص کے لئے اس میں برکت رکھ دے راوی کہتے ہیں : تو مجھے اپنے بارے میں یہ بات اچھی طرح یاد ہے کہ میں اس گھوڑی کے سر کو کھینچ رہا تھا کہ میں آگے نہ نکل جاؤں ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے اس گھوڑی کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کو بارہ ہزار کے عوض میں فروخت کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9350
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2172)»